صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 661 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 661

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۱ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ثُمَّ تَابَعَهُ بَعْدُ عُمَرُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ أَبُو بَكْرٍ سوا کوئی معبود نہیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون إِلَى مَشورَةٍ إِذْ كَانَ عِنْدَهُ حُكْمُ اور مال بچا لیے سوائے اس کے کہ ان کو جائز حق کے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى طور پر لیا جائے اور اُن کا حساب اللہ کے ذمہ ہے تو الَّذِينَ فَرَّقُوا بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم میں تو ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا جنہوں نے ان باتوں کو الگ الگ سمجھا وَأَرَادُوا تَبْدِيلَ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ وَقَالَ جن کو رسول اللہ صلی الم نے یکساں قرار دیا تھا پھر اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ کے بعد حضرت عمر نے ان کا ساتھ دیا اور حضرت ابو بکر دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ نے کسی مشورہ کی طرف التفات نہیں کی جبکہ ان کے مَشُورَةِ عُمَرَ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا پاس رسول اللہ لی لی کم کا فیصلہ ان لوگوں کے متعلق وَكَانَ وَفَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ تھا جنہوں نے نماز اور زکواۃ کو علیحدہ علیحدہ قرار دیا اور دین اور اس کے حکموں کو تبدیل کرنا چاہا۔نبی ملی الم نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدلا اس کا قلع قمع کرو اور حضرت عمرہ کے مشورہ میں اہل علم ہی شریک ہوتے بوڑھے ہوں یا جوان اور حضرت عمر اللہ عزر وجل کی کتاب کے سامنے بالکل ٹھہر جاتے تھے۔٧٣٦٩: حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا :۷۳۶۹: اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح سے، صالح شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ، ابن سیب، علقمه بن وقاص اور عبید اللہ نے حضرت وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے اس عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَ قَالَ لَهَا واقعہ کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ جب بہتان أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا قَالَتْ وَدَعَا رَسُولُ باندھنے والوں نے ان پر افترا پردازی کی تھی، وہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي بیان فرماتی ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ على بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ جب آپ نے وحی کے آنے میں دیر محسوس کی بلایا