صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 660 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 660

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۰ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة أُحَدٍ فِي الْمُقَامِ وَالْخُرُوج فَرَأَوْا لَهُ کے متعلق اپنے صحابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے آپ الْخُرُوجَ فَلَمَّا لَبِسَ لَوْمَتَهُ عَزَمَ قَالُوا کو نکلنے کی رائے دی مگر جب آپ نے اپنی زرہ پہن أَقِمْ فَلَمْ يَمِلْ إِلَيْهِمْ بَعْدَ الْعَزْمِ وَقَالَ لَا لی اور عزم کر لیا تو صحابہ کہنے لگے مدینہ میں ہی ٹھہریں يَنْبَغِي لِنَبِيَّ يَلْبَسُ لَأُمَتَهُ فَيَضَعُهَا حَتَّى تو عزم کرنے کے بعد آپ نے ان کا کہنا نہیں مانا اور يَحْكُمَ اللَّهُ وَشَاوَرَ عَلِيًّا وَأَسَامَةَ فِيمَا فرمایا: نبی کے شایاں نہیں کہ وہ اپنی زرہ پہن کر اس رَمَى بِهِ أَهْلُ الْإِفْكِ عَائِشَةَ فَسَمِعَ کو اُتار دے جب تک کہ اللہ فیصلہ نہ کرے اور آپ نے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے اس بات کے مِنْهُمَا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ فَجَلَدَ الرَّامِينَ متعلق مشورہ کیا جس سے بہتان باندھنے والوں نے وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَى تَنَازُعِهِمْ وَلَكِنْ حَكَمَ حضرت عائشہ کو متہم کیا تھا اور ان دونوں کی رائے بِمَا أَمَرَهُ اللهُ، وَكَانَتِ الْأَئِمَّةُ بَعْدَ النَّبِيِّ سن یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا اور پھر آپ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَشِيرُونَ تہمت لگانے والوں کو کوڑے لگوائے اور ان کے الْأُمَنَاءَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْأُمُورِ آپس میں اختلاف کی طرف التفات نہ کی بلکہ جو اللہ الْمُبَاحَةِ لِيَأْخُذُوا بِأَسْهَلِهَا فَإِذَا وَضَحَ نے آپ کو حکم دیا تھا اس کے مطابق آپ نے فیصلہ الْكِتَابُ أَوِ السُّنَّةُ لَمْ يَتَعَدُّوْهُ إِلَى غَيْرِهِ کیا اور نبی صلی الیکم کے بعد جو امام ہوئے وہ بھی قابل اقْتِدَاءً بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعتبار، اہل علم سے جائز امور میں مشورہ کیا کرتے وَرَأَى أَبُو بَكْرٍ قِتَالَ مَنْ مُنَعَ الزَّكَاةَ تھے تاکہ ان میں سے جو امر آسان تر ہو اُس کو اختیار فَقَالَ عُمَرُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ کریں اور جب اللہ کا حکم یا آنحضرت کا دستور العمل واضح ہو جاتا تو وہ نبی کی کم کی پیروی کرتے ہوئے قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس سے آگے کسی اور بات کی طرف نہ بڑھتے اور أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا حضرت ابو بکر نے ان لوگوں سے جو زکوۃ نہیں دیتے إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تھے لڑنا مناسب سمجھا تو حضرت عمر نے کہا: آپ ان عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ لی لی نام یہ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ فَقَالَ أَبُو فرما چکے ہیں کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں بَكْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ مَا سے اس وقت تک لڑتار ہوں جب تک کہ لا إله جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اللهُ نہ کہہ دیں، اگر وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے