صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 44
صحیح البخاری جلد ١٦ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ۔ ۴۴ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔۔ وہ گھڑی بر پا نہیں ہو گی جب تک کہ ایسے دو گروہ نہ لڑیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہو۔ أطرافه: ۸۵، ۱۰۳۶ ، ۱۴۱۲، ۳۶۰۸ ، ۳۶۰۹ ، ٤٦٣٥، ٤٦٣٦، ٦٠٣٧، ٦٥٠٦، ٧٠٦١، ۷۱۲۱ ،۷۱۱۰ تشريح : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَلَ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ: في صلى اللہ علیہ سلم کا فرمانا: وہ گھڑی اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ دو ایسے گروہ آپس میں نہ لڑیں جن کا دعوئی ایک ہی ہو گا۔ علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں: فئتان أى جماعتان هما فئة على بن أبي طالب رضي الله تعالى عَنْهُ وَفِيَّةٌ مُعَاوِيَة بن أبي سُفْيَان وَقَالَ الداودي: هاتان الفئتان هما إن شاء الله أصحاب الجمل ۔ یعنی دو ایک جیسے عقیدے والی جماعتوں سے مراد حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کی جماعت تھی۔ علامہ داودی نے کہا ہے کہ یہ دو جماعتیں ان شاء اللہ ایک جماعت تو اصحاب جمل تھے اور دوسرے حضرت علیؓ۔ علامہ عینی اور داودی کا یہ خیال اس صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةً سے مراد یہ لیا جائے کہ ہر دو گروہ خلافت راشدہ کے قیام و استحکام کے لئے بر سر پیکار تھے اور محض غلط فہمی کے نتیجہ میں ہر فریق دوسرے کو منکر خلافت یا باغی خلافت سمجھ رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اور تائید الہی نے حضرت علی کی خلافت کو خلافت راشدہ کا امین ثابت کیا اور اُمت مسلمہ میں حضرت علی کو چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ حضرت عائشہ تو حقیقت آشکار ہونے کے بعد حضرت علی کے مقابلہ سے دستکش ہو گئیں مگر جن گروہوں نے حضرت علیؓ کے خلاف علم بغاوت بلند رکھا وہ خلافت حقہ کے انکار کی وجہ سے سرکش اور باغی کہلائے۔ اُمت مسلمہ میں صدیوں سے زیر بحث اس مسئلہ کو حکم و عدل نے حل کر کے اُمت کو حق کی راہ دکھائی۔ آپؐ نے فرمایا: ان الحق كان مع المرتضى ومن قاتله في وقته فبغی و طغی۔“ سر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۵۲) ترجمہ: کہ حق حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تھا اور جس نے ان کے زمانہ میں ان سے جنگ کی اس نے بغاوت اور سرکشی کی۔ باب ۹: مَا جَاءَ فِي الْمُتَأَوَّلِينَ تاویل کرنے والوں کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں ٦٩٣٦ : قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ۶۹۳۶: ابو عبد الله (امام بخاری) کہتے تھے: اور اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ لیث نے کہا کہ یونس نے ابن شہاب سے روایت أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے