صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 654
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۴ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اللَّهِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا اور تمہارے پاس قرآن ہے اور اللہ کی کتاب ہمیں فَمِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ کافی ہے۔ گھر کے لوگوں نے اختلاف کیا اور آپس رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا میں جھگڑنے لگے۔ ان میں سے وہ بھی تھے جو کہتے لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ مَا قَالَ تھے لکھنے کا سامان لاؤ تا کہ رسول اللہ صلی علیم ایسی تحریر عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالاخْتِلَافَ لکھ دیں کہ اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو اور ان میں سے عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ایسے بھی تھے جو وہ بات کہتے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہی۔ جب انہوں نے نبی صلی الم کے پاس بہت شور قُومُوا عَنِّي۔ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ ابْنُ اور جھگڑا کیا تو آپ نے فرمایا: اُٹھ کر میرے پاس سے عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا چلے جاؤ۔ عبید اللہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کہا کرتے تھے: ساری کی ساری مصیبت وہ بات ہے وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ جس نے رسول اللہ صلی ا ہم کو ان کے لئے تحریر سے صا الله سالم کی علوم الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ۔ روک دیا یعنی ان کا وہ جھگڑا کرنا اور شور مچانا۔ أطرافه: ١١٤، 3053، ٣١٦٨، ٤٤٣١، ٤٤٣٢، ٥٦٦٩۔ تشریح : كَرَاهِيَةُ الخلاف: اختلاف کو ناپسند کرنا۔ شارح بخاری محمد بن صالح عثیمین لکھے ہیں کہ یہاں خلاف سے مراد دلوں کا اختلاف ہے کیونکہ اجتہاد کرتے ہوئے آراء میں جو اختلاف واقع ہوتا ہے اُس سے تو کوئی مفر ہی نہیں اور ایسا اختلاف تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی صحابہ میں ہو جایا کرتا تھا۔ در حقیقت اس میں اسلام کے اندر فرقہ بندی سے رُکنے کا اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ فرقوں میں بٹ جائیں کیونکہ فرقہ بندی کالازمی نتیجہ اختلافات ہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور فرقے ایسے ہی ہوتے ہیں (جیسا کہ بیان کیا گیا ہے : ( فَتَقَطَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ) فرحون (المؤمنون: ۵۴) یعنی انہوں ۔ :۵۴) یعنی انہوں نے اپنے امر (یعنی شریعت) کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہے اور ہر فرقہ اس ٹکڑے پر جو اس کے پاس ہے، اترانے والا ہے۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ حق میرے پاس ہے اور میرا مخالف گمراہ ہے۔ پس اُمت فرقوں میں بٹ گئی اور یہ معاملہ تو معلوم ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (الانعام : ۱۶۰) یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ ہو گئے، تیرا اُن سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر وہ اُن کو اُس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ (شرح صحیح البخاری لابن العثیمین جزء ۱۰ صفحه (۱۸۱) جزء۔