صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 644
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۴۴ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَادٍ حَدَّثَنَا أَبِي بن معاذ نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے سعد بن کی۔ دجال ہے۔ میں نے کہا: آپ اللہ کی قسمیں کھاتے عَنْ مَحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ ابراہیم سے، سعد نے محمد بن منکدر سے روایت جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو دیکھا۔ وہ اللہ کی قسم کھاتے تھے کہ ابن صیاد ہی وہ الصَّيَّادِ الدَّجَّالُ قُلْتُ تَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ کو نبی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات پر قسم کھاتے يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ناتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔ نہ تشريح : مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِي حُجَّةٌ لَا مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ : جس نے بی سی ام کے انکار نہ کرنے کو دلیل سمجھا (اسے تقریر کہتے ہیں) رسول اللہ کے سوا کسی کی تقریر (حجت) نہیں۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علم کا کوئی قول یا فعل تو بیان نہ کیا گیا ہو لیکن یہ ذکر ہو کہ آپؐ کے سامنے فلاں شخص نے فلاں کام کیا یا فلاں بات کہی اور اسے آپؐ نے اس کام کے کرنے یا اس بات کے کہنے سے نہیں روکا۔ دراصل عربی زبان میں تقریر کے معنی بولنے کے نہیں ہوتے بلکہ کسی بات کو برقرار رکھنے کے ہوتے ہیں۔ پس ن الله سلم علوم حدیث تقریری سے وہ حدیث مراد ہے جس میں آنحضرت کئی ایم نے کسی صحابی کے فعل یا قول کو صحیح سمجھتے ہوئے اسے برقرار رکھا ہو اور اُس پر اعتراض نہ فر الله رضيعة چالیس جواہر پارے مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے ، صفحہ ۹، ۱۰) باب ٢٤ : الْأَحْكَامُ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلَائِلِ وہ احکام جو دلائل سے معلوم کئے جائیں وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلَالَةِ وَتَفْسِيرُهَا ۔ وَقَدْ اور دلالت کے کیا معنی ہیں اور دلالت کی تفسیر۔ اور أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ في صلی الم نے گھوڑوں وغیرہ کے متعلق بیان کیا۔ الْخَيْلِ وَغَيْرِهَا ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْحُمُرِ پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے