صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 643 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 643

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۴۳ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة تشريح : الْحُجَّةُ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكامَ النَّبِيِّ ﷺ كَانَتْ ظَاهِرَةُ: اس شخص کے بر خلاف دلیل جس نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ہر ایک کے علم میں تھے۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ اس باب کو قائم کرنے سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ اکثر اکابر صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (تمام) مجالس میں موجود نہیں رہ پاتے تھے اور آپ کے (بعض) اقوال و افعال سے محروم رہ جاتے تھے جس کی وجہ سے وہ انہی احکام پر عمل پیرا رہتے تھے جن کا انہیں علم ہو تا تھا، یا توکسی ناسخ حکم سے عدم علم کے باعث منسوخ حکم پر عمل کر رہے ہوتے تھے یا کسی ابتدائی اجازت پر قائم ہوتے تھے۔پھر بعد ازاں بعض دوسرے صحابہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ، وہ اس کا علم حاصل کرتے تھے۔اور یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو اپنے عظیم مرتبہ کے باوجو د دادی کے حق وراثت سے لاعلم تھے یہاں تک کہ حضرت محمد بن مسلمہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ نے انہیں اس بارہ میں (سنتِ نبوی سے) نص کی خبر دی۔اور (اسی طرح) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اجازت طلب کرنے کے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث) کی طرف رجوع کیا تھا۔جیسا کہ زیر باب حدیث میں بیان ہوا ہے۔نیز اس کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ اس باب سے روافض اور خوارج کا یہ عقیدہ رد ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ کرم کے تمام احکام و سنن آپ سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور جو بھی تواتر سے منقول نہ ہو وہ عمل جائز نہیں۔حالانکہ یہ عقیدہ اس وجہ سے ردّ ہو جاتا ہے کہ صحابہ کا ایک دوسرے سے علم حاصل کرنا متحقق ہے اور وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے صحابی) کی رسول اللہ صل اللی کم سے روایت کی طرف رجوع کر لیا کرتے تھے۔اور اس بات پر اجماع ہے کہ خبر واحد پر عمل کرنا جائز ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۶۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کامور من اللہ کی صحبت میں رہنے والے لوگ بہت کچھ فائدہ اُٹھاتے ہیں اور ایک حد تک علم صحیح اس تعلق کے متعلق جو مامور من اللہ اور خدا تعالیٰ میں ہوتا ہے حاصل کرتے ہیں مگر وہ کامل علم جو اُس مامور کو دیا جاتا ہے کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا اور خدا تعالیٰ کا علم تو پھر اور ہی رنگ رکھتا ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۱۷۶) بَاب ۲۳ : مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لَا مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار نہ کرنے کو دلیل سمجھا (اسے تقریر کہتے ہیں) رسول اللہ کے سوا کسی کی تقریر (حجت) نہیں ٧٣٥٥: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ ۷۳۵۵ حماد بن حمید نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ