صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 645
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۴۵ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فَدَلَّهُمْ عَلَى قَوْلِهِ تَعَالَى فَمَنْ يَعْمَلُ صحابہ کو اللہ تعالیٰ کی اس بات سے استدلال کرنے مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَة ( الزلزال:۸) کے لئے فرمایا: جو ذرہ بھر بھلائی کرے گا، وہ اس وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن کو دیکھ لے گا۔اور نبی صلی ا م سے گوہ کے متعلق الضَّبِّ فَقَالَ لَا أكُلُهُ وَلَا أُحَرَمُهُ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: نہ میں اس کو کھاتا ہوں وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نہ حرام کرتا ہوں۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ الضَّبُّ فَاسْتَدَلَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِأَنَّهُ دستر خوان پر گوہ کھائی گئی تو حضرت ابن عباس نے اس سے یہ استدلال کیا کہ وہ حرام نہیں۔لَيْسَ بِحَرَامٍ۔٧٣٥٦ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۳۵۶: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مجھے بتایا۔انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابو صالح سمان سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے رکھنا تین طرح کا ہے۔قَالَ الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ ایک شخص کے لئے ثواب، ایک شخص کے لئے سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ پردہ پوشی اور ایک شخص پر وبال۔وہ شخص جس کے أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ لئے ثواب ہے تو وہ وہ شخص ہے جس نے اُن کو اللہ فَأَطَالَ فِي مَرْجِ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ کی راہ میں باندھے رکھا اور مرغزار یا کسی باغ میں طِيَلِهَا ذَلِكَ الْمَرْجِ وَالرَّوْضَةِ كَانَ ان کی رسی کو لمبا کر دیا ت وہ اس رسی کے لمبائی میں لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا اُس مرغزار یا باغ سے جہاں تک چریں وہ اُس کے لئے نیکیاں ہوں گی۔اور اگر وہ رسی توڑا کر ایک یا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ دو میل تک چھلانگیں لگاتے ہوئے بھاگ بھی جائیں آثَارُهَا وَأَرْوَانُهَا حَسَنَاتٍ لَّهُ وَلَوْ أَنَّهَا تو اُن کے قدموں کے نشان اور ان کی لید میں بھی مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ اُس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی ندی پر تُسْقَى بِهِ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَّهُ وَهِيَ سے گزریں اور وہاں سے (پانی) پی لیں اور وہ نہ لِذَلِكَ الرَّجُلِ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغْنَيًا چاہتا ہو کہ وہاں سے اُن کو پلائے تو یہ بھی اس کے