صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 629 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 629

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۲۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اور اُس نے پاداش اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور عقیدے و عمل سے متعلق اس کا علم حاوی ہے۔ انسان کو تاہ نظر ہے اس لئے اس کا حق نہیں کہ مذہب کے بارے میں جبر و اکراہ اور درشتی و سختی سے کام لے۔ بدر واحد کی جنگیں الہی تصرف سے ہوئیں تا ظالم سزا پائیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کا اس سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا۔ زمین و آسمانوں کے مالک نے دیکھا کہ اس کے بندے حد سے بڑھ گئے ہیں اس لئے اُن کی تباہی کا سامان اُن کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کر دیا۔ مگر ظلم سے نجات پانے کے لئے دعا و گریہ وزاری منع نہیں۔“ ( ترجمه و شرح صحیح البخاری ، کتاب التفسير، تفسیر سورة آل عمران، باب ۹، جلد ۱۰ صفحه ۱۴۷، ۱۴۸) بَاب ۱۸ : وَكَانَ الْإِنْسَانُ اكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ( الكهف : ٥٥) انسان سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتٰبِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اہل کتاب سے بحث نہ کرو إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (العنكبوت: ٤٧)۔ مگر ایسے طریقے سے کہ جو سب سے اچھا ہے۔ ٧٣٤٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۳۴۷: ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح۔ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا عَتَابُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ نيز محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ عتاب بن إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ بشیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق سے، اسحاق حُسَيْنِ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِي رَضِيَ الله نے زہری سے روایت کی کہ علی بن حسین نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ حضرت علی بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى ابی طالب نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا کے اور حضرت فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ السَّلَامُ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کو آئے اور اُن سے وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَا تُصَلُّونَ؟ فَقَالَ فرمایا: کیا تم نماز (تہجد) نہیں پڑھا کرتے؟ حضرت عَلِيٌّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا علی کہتے تھے ، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہماری جانیں