صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 618 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 618

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۸ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ٧٣٢٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۷۳۲۵: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدا الرحمن بن عَابِسٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ عابس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِباس سے پوچھا گیا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ کے ساتھ عید میں موجود تھے ؟ تو انہوں نے کہا: مِنَ الصِّغَرِ فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ ہاں۔ اگر میرا تعلق آپ سے نہ ہوتا تو میں بوجہ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ چھوٹا ہونے کے (عید میں) آپ کے ساتھ شریک وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً - ثُمَّ نہ ہوتا۔ آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کی حویلی کے پاس ہے اور وہاں آکر آپ نے أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ نماز پڑھی۔ پھر آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَأَمَرَ بِلَالًا حضرت ابن عباس نے اذان کا ذکر نہیں کیا اور فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نہ اقامت کا۔ پھر آپ نے صدقہ کا حکم دیا۔ اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ پر عورتیں اپنے کانوں اور بالیوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں۔ آپ نے بلال کو حکم دیا اور وہ عورتوں کے پاس آئے اور پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے۔ أطرافه: ٩٨ ، ٨٦٣، ٩٦٢، ۹٦٤ ، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ١٤۳۱، ١٤٤٩، 4895، ٠٥٨٨١ ٥٨٨٣ ،۵۸۸۰ ،٥٢٤٩ ٧٣٢٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۳۲۶: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں ۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ دينار سے ، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاء سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں مَاشِيًا وَرَاكِبًا۔ أطرافه: ۱۱۹۱، ۱۱۹۳، 1194۔ چل کر بھی آتے اور سوار ہو کر بھی۔