صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 610 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 610

صحیح البخاری جلد ۱۶ ५।० ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ہے کہ اس نے رسول کے قاصد کو یہ توفیق دی اور وہ صحیح طریق کار سمجھا جو اللہ کے رسول کو پسند ہے۔ (ابو داود، کتاب الأقضية، باب اجتهاد الرأى في القضاء) تو یہ ہے اصول فیصلہ کرنے کا کہ قرآن سے رہنمائی لی جائے پھر سنت سے رہنمائی لی جائے۔ اگر خلفاء کے ارشادات ہیں اس بارہ میں اُن سے رہنمائی لی جائے۔ پھر اگر کہیں سے بھی اس مخصوص امر کے لئے رہنمائی نہ ملے تو دعا کرتے ہوئے، اللہ کے حضور جھکتے ہوئے اُس سے مدد مانگتے ہوئے کسی بات کا فیصلہ کیا جائے۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۵، دسمبر ۲۰۰۳، جلد اول صفحہ ۵۲۶، ۵۲۷) باب ١٤ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَتْبَعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: تم ضرور ضرور اُن لوگوں کی چالیں چلو گے جو تم سے پہلے تھے ۷۳۱۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۷۳۱۹ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مقبری سے، أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی علیم سے روایت کی۔ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہ ہو گی قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ فَقِيلَ جب تک کہ میری اُمت ان امتوں کا رویہ نہ اختیار کرلے جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں، بالشت سے يَا رَسُولَ اللَّهِ كَفَارِسَ وَالرُّومِ؟ فَقَالَ وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ۔ بالشت اور ہاتھ سے ہاتھ۔ آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ ! فارسیوں اور رومیوں کی طرح؟ آپ نے فرمایا: اور کون لوگ ہیں ؟ وہی تو ہیں۔ ۷۳۲۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ۷۳۲۰: محمد بن عبد العزیز نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ مِنَ الْيَمَنِ ابو عمر صنعانی نے جو یمن کے تھے ہمیں بتایا۔ ابو عمر عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے زید بن اسلم سے ، زید نے عطاء بن یسار سے ،