صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ١٦ ۳۹ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ۔ اور اُنہوں نے حروریہ کا ذکر کیا اور کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ تشريح : قَتْلُ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِينَ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ : باغیوں اور بے دینوں کو اُن پر حجت قائم کرنے کے بعد مار ڈالنا۔ امام بخاری نے ابواب کی ترتیب میں اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو گالیاں دینے والے، دین میں الحاد کی راہ اختیار کرنے والے سے اُس وقت تک قتال کرنا جائز نہیں جب تک وہ بغاوت کرتے ہوئے محاربت کی راہ اختیار نہ کر لیں۔ یہاں خوارج اور ملحدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلامی حکومت کے باغی اور اس کے خلاف جنگ کی آگ بھڑ کانے والے وہ فتنہ گر اور فسادی لوگ تھے جو مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے۔ یہ فتنہ جنگ کی صورت میں برپا کیا گیا اس لئے اس کا کیا اس لئے اس کا سد باب بھی جنگ سے ہی کیا گیا۔ علامہ بدر الدین عینی! مینی لکھتے ہیں: الخوارج ۔۔۔ الخ، وَهُوَ جمع خَارِجَة أَى : طَائِفَة خَرِجُوا عن الدين وهم قوم مبتدعون سموا بذلك لأنهم خرجوا على خيار المسلمين، وَقَالَ الشهرستاني في الملل والنحل كل من خرج على الإمام الحق فَهُوَ خارجي سواء في زمن الصحابة أو بعدهم (عمدة القارى، جزء ۲۴ صفحہ ۸۴) خوارج کا لفظ خارجہ کی جمع ہے، یہ و ہے، یہ وہ جماعت ہے جو دین سے نکل گئی، یہ وہ بدعتی لوگ ہیں جو دین سے نکل گئے اور ان کو خوارج اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے بہترین مسلمانوں کے خلاف خروج کیا۔ علامہ شہرستانی نے کتاب الملل والنحل میں کہا ہے کہ ہر شخص جو امام بر حق کے خلاف خروج کرے تو وہ خارجی ہے خواہ وہ صحابہ کے زمانہ میں میں ہو ہو یا یا اُن ان کے - بعد۔ اور علامہ شہرستانی کا یہ کہنا: كل من خ : كل من خرج على الإمام الحق فهو خارجی۔ ہر وہ شخص جو امام برحق کے خلاف خروج کرے تو وہ خارجی ہے۔ خارجی کے معنوں کا وسیع تر مفہوم ہے۔ علامہ بدرالدین عینی گلد کی وضاحت مینی ملحد کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ الْمُلْحِدِينَ: وهو جمع ملحد، وَهُوَ الْعَادِل عن الحق المائل إلى الباطل (عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۸۴) ملحدین ملحد کی جمع ہے۔ ملحد اُس کو کہتے ہیں جو حق سے دوری اختیار کرے اور باطل کی طرف میلان کرے۔ وہ الحرورية: رِيَّةَ: علامہ عینی مینی لکھتے لکھتے ہیں ہیں : : حروریہ۔ حروریہ سے مراد خوارج ہیں، ان کا نام ضرور یہ اس اس۔ لیے رکھا گیا کہ انہوں نے اس جگہ پڑاؤ کیا جسے حروراء کہتے ہیں۔ حروراء کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے اور ان کا پہلا اجتماع اور پہلی حکومت حروراء میں قائم ہوئی۔ علامہ ابن اخیر نے کہا ہے کہ حروریہ خوارج کی ایک جماعت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے حضرت علی بن ابی طالب نے قتال کیا، اور خوارج کا دین میں تشدد بہت معروف ہے اور ان کا سردار عبد اللہ بن الكواء البشکری تھا اور خوارج کے ہیں فرقے تھے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحه ۸۵) سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ: آخری زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے۔ آخری زمانہ سے کیا مراد ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ آخر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخر یعنی حضرت علی کا زمانہ ہے کیونکہ ان کا خروج حضرت علیؓ کے کے دور دور خلافت میں ہوا جو کہ خلافت راشدہ کا آخری دور ہے۔ علامہ عینی " لکھتے ہیں : اگر ہم کہیں کہ خو خوارج