صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 40
صحیح البخاری جلد ۱۲ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔کا نکلنا اور ان کا ظہور متعدد بار ہوا ہے تو یہ سوال ابتداء ساقط ہو جائے گا یعنی حضرت علی کے دور میں بھی خوارج کا ظہور ہوا اور اُن کے بعد قرب قیامت میں بھی خوارج کا ظہور ہو گا۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحه ۸۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک جماعت ایسی پیدا ہو گی کہ جو تم سے لمبی نمازیں پڑھے گی لیکن وہ دین سے خارج ہو گی مگر اول تو اسی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ جماعت حضرت علی کے وقت میں پیدا ہو چکی ہے دوسرے یہ بھی یا در کھنا چاہیے کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہ اس جماعت کے لوگ نمازیں پڑھیں گے اور تم نہیں پڑھو گے مگر ہو گے تم ہی اچھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ تم سے لمبی نمازیں پڑھیں گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی جماعت ہے جو اس زمانہ میں ہوئی ہے جب سب کے سب مسلمان نمازیں پڑھا کرتے تھے مگر آج کل تو اکثر بے نماز ہیں۔“ ( انوار العلوم، قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام، جلد ۴ صفحہ ۷۷،۷۶) لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ : وہ (قرآن) اُن کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔علامہ عینی "لکھتے ہیں کہ حناجر ى الخلقوم والبلعوم وكله يُطلق على مجرى النفس مقاتلى القمر یعنی حناجر حنجرة کی جمع ہے اور اس کے معنی حلق کے ہیں نیز گلے کی وہ نالی جس سے کھانا گزرتا ہے اس کا اطلاق اس نالی پر بھی ہوتا ہے جو منہ کے قریب ہے اور جس سے انسان سانس لیتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنِ وَسَلُوا اللَّهَ بِهِ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَن يَتَعَلَّمَهُ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ بِهِ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْقُرْآنَ يَتَعَلَّمُهُ ثَلَاثَةُ : رَجُلٌ يُبَاهِي وَرَجُلٌ يَسْتَأْكِلُ بِهِ وَرَجُلٌ يَقْرَأَهُ یڈورہ سے تم قرآن سیکھو اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو، قبل اس کے کہ ایک ایسی قوم قرآن سیکھے جو اس کے ذریعہ سے دنیا طلب کرے۔قرآن کریم تین طرح کے لوگ سیکھتے ہیں: ایک وہ جو اس کے ذریعہ فخر کرتا ہے، ایک وہ جو اس کے ذریعہ مال طلب کرتا ہے اور ایک وہ جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر پڑھتا ہے۔جمع حنجرة وهيا (فتح الباری، جزء ۹ صفحه ۱۲۶) وَيَتمارَى فِي الْفُوْقِ: سرے کو دیکھے تو اس میں شک کرے۔تیر کے پچھلے کنارے کو جو کمان کے دھاگے سے ملا ہوتا ہے فوق کہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی مثال اُس تیر سے دی ہے جو شکار سے پار گزر جائے مگر اس پر خون اور گوشت وغیرہ کا کوئی نشان نہ ہو۔یہی حال ان لوگوں کا ہو گا کہ باوجودیکہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں گے مگر اس تعلیم کا کوئی مثبت اثر اُن پر دکھائی نہیں دے گا اور اُن کی حالتوں سے یہ ظاہر ہو گا کہ وہ اس تعلیم سے بے بہرہ اور جاہل مطلق ہیں۔(مختصر قيام الليل وقيام رمضان و كتاب الوتر ، بَابُ ثَوَابِ الْقِرَاءَةِ بِاللَّيْلِ، صفحہ ۱۷۹)