صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 40
صحیح البخاری جلد ۱۶ لده ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ کا نکلنا اور ان کا ظہور متعد دبار ہوا ہے تو یہ سوال ابتداء ساقط ہو جائے گا یعنی حضرت علی کے دور میں بھی خوارج کا ظہور ہوا اور اُن کے بعد قرب قیامت میں بھی خوارج کا ظہور ہو گا۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۸۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک جماعت ایسی پیدا ایسی پیدا ہو گی کہ جو تم سے لمبی نمازیں پڑھے گی لیکن وہ دین سے خارج ہو گی مگر اول تو اسی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ جماعت حضرت علی کے وقت میں پیدا ہو چکی ہے دوسرے یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہ اس جماعت کے لوگ نمازیں پڑھیں گے اور تم نہیں پڑھو گے مگر ہو گے تم ہی اچھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ تم سے لمبی نمازیں پڑھیں گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی جماعت ہے جو اس زمانہ میں ہوئی ہے جب سب کے سب مسلمان نمازیں پڑھا کرتے تھے مگر آج کل تو اکثر بے نماز ہیں۔“ (انوار العلوم، قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام ، جلد ۴ صفحہ ۷۷،۷۶) لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ : وه ( قرآن ) اُن کے گلوں سے نیچے نہیں اُترے گا۔ علامہ عینی لکھتے ہیں کہ حناجر جمع حنجرة وهي الحلقوم والبلعوم وكله يُطلق على مجرى النفس ما يلى القمر یعنی حناجر حنجرة کی جمع ہے اور اس کے معنی حلق کے ہیں نیز گلے کی وہ نالی جس سے کھانا گزرتا ہے اس کا اطلاق اس نالی پر بھی ہوتا ہے جو منہ کے قریب ہے اور جس سے انسان سانس لیتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّهَ بِهِ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَن يَتَعَلَّمَهُ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ بِهِ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْقُرْآنَ يَتَعَلَّمُهُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ يُبَاهِي وَرَجُلٌ يَسْتَأْكِلُ بِهِ وَرَجُلٌ يَقْرَأَهُ یلی کے تم قرآن سیکھو اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو، قبل اس کے کہ ایک ایسی قوم قرآن سیکھے جو اس کے ذریعہ سے دنیا طلب کرے۔ قرآن کریم تین طرح کے لوگ سیکھتے ہیں: ایک وہ جو اس کے ذریعہ فخر کرتا ہے، ایک وہ جو اس کے ذریعہ مال طلب کرتا ہے اور ایک وہ جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر پڑھتا ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۹ صفحه ۱۲۶) وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ: سرے کو دیکھے تو اس میں شک کرے۔ تیر کے پچھلے کنارے کو جو کمان کے دھاگے سے ملا ہوتا ہے فوق کہتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی مثال اس تیر سے دی ہے جو شکار سے پار گزر جائے مگر اس پر خون اور گوشت وغیرہ کا کوئی نشان نہ ہو۔ یہی حال ان لوگوں کا ہو گا کہ باوجود یکہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں گے مگر اس تعلیم کا کوئی مثبت اثر ان پر دکھائی نہیں دے گا اور اُن کی حالتوں سے یہ ظاہر ہو گا کہ وہ اس تعلیم سے بے بہرہ اور جاہل مطلق ہیں۔ ا۔ (مختصر قيام الليل و قيام رمضان و کتاب الوتر، بابُ ثَوَابِ الْقِرَاءَةِ بِاللَّيْلِ، صفحہ ۱۷۹)