صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 596
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۶ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ لگی : یا رسول اللہ ! مرد تو آپ کی ساری باتیں لے بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ نَّفْسِكَ يَوْمًا گئے۔ ہمارے لئے بھی آپ اپنی ذات سے کچھ حصہ نَّأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ الله ایسے دن رکھیں کہ جس میں ہم آپ کے پاس آیا فَقَالَ اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي کریں، جو باتیں اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں وہ ہمیں مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ سکھائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: فلاں فلاں دن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فلاں فلاں جگہ پر تم سب اکٹھی ہو۔ چنانچہ وہ اکٹھی فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ مَا ہوئیں اور رسول الله ملی علوم لی علیہم ان کے پاس آئے اور مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ آپ نے ان کو بھی وہ باتیں سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: تم میں سے جو وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِن عورت بھی اپنے تین بچے اپنے آگے بھیجے گی تو وہ اس النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ کے لئے آگ سے بچاؤ کا موجب ہوں گے۔ اُن میں اثْنَيْنِ؟ قَالَ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ سے ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! دو ہوں۔ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ۔ أطرافه: ١٠١، ١٢٤٩- حضرت ابو سعید کہتے تھے : اس نے اس لفظ کو دہرایا آپ نے فرمایا: اور دو بھی اور دو اور دو بھی۔ تشريح : تَعْلِيمُ النَّبِيِّ ﷺ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مَا عَلَ الله صلى اله عليه و علیہ وسلم کا اپنی اُمت کے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی وہ باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس موعود ہیں جن کے مونہہ میں خدا تعالیٰ کا کلام ڈالا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم : ۴، ۵) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کے منشاء کو الفاظ کا جامہ نہیں پہناتے بلکہ صرف وہی الفاظ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جو وحی کی شکل میں آپ پر نازل کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک نام کلام اللہ بھی رکھا گیا ہے۔ (بقرة ع۹) کیونکہ اس میں شروع سے لے کر آخر تک صرف کلام اللہ ہی ہے۔ لیکن باقی انبیاء