صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 597
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۷ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة کی کتب میں خدا تعالیٰ کا کلام کم اور بندوں کا کلام زیادہ پایا جاتا ہے۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس موعود ہیں جنہوں نے دنیا کی شدید مخالفت کے باوجود خداتعالی کا کلام بلا کم و کاست لوگوں کو پہنچادیا۔چنانچہ حجتہ الوداع کے موقع پر جب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (مائده (ع )) آج میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو مکمل کر دیا ہے تو آپ نے تمام مسلمانوں کو دوبارہ اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور آخر میں فرمایا: اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ یعنی اے الله ! کیا میں نے تیر اپیغام پوری طرح پہنچا دیا ہے؟ اور سب مسلمانوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم سب کو پہنچا دیا ہے۔“ (تفسیر کبیر ، تفسیر سورۃ القصص، جلدے صفحہ ۵۱۴) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حجتہ الوداع یعنی آخری حج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا۔چنانچہ چند الفاظ اُس طویل خطبے کے آخر سے نقل کئے جاتے ہیں: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَغَتُ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدُداے میرے پروردگار ! کیا میں نے سب کچھ پہنچا دیا۔لوگوں نے کہا: ہاں۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ میرے تو گواہ اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دینا (المائدة : ۴) آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا میں نے تم پر احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے دین مسلمان یہ آیت اور وہ حدیث باظہار حق و با قرار عباد گواہی دیتی ہے کہ آنحضرت نے سب کچھ بتلایا۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۲۳۹) __