صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 595 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 595

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہو تا۔مگر بعض اوقات خد اتعالیٰ بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے تب پھر وحی کا در یازور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اُٹھادیا جاتا ہے گویا اس کا کبھی وجود نہیں تھا۔حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں۔باایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔پس جس حالت میں ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا تالوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۲ تا ۱۱۶) باب :٩ تَعْلِيمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ لَيْسَ بِرَأْيِ وَلَا تَمْثِيلٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی اُمت کے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی وہ باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں، آپ نے نہ رائے سے سکھائیں اور نہ قیاس سے ۷۳۱۰: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۳۱۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن اصبہانی سے، الْأَصْبَهَانِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عبد الرحمن نے ابو صالح ذکوان سے، ابو صالح نے عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى حضرت ابوسعید سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک عورت رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس آئی اور کہنے