صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 593
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۳ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فِي مَالِي قَالَ فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْءٍ جائیداد کو کیا کروں؟ کہتے تھے: آپ نے مجھے کچھ نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاتِ۔جواب نہیں دیا۔یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔أطرافه: ١٩٤، ٤٥٧٧، ٥٦٥١، ٥٦٦٤، ٥٦٧٦، ٦٧٢٣، ٦٧٤- تشريح۔مَا كَانَ التي لا يُسْأَلُ مالم ينزل عَلَيْهِ الوخي۔۔صلی اللہ علیہ ولم جربات بھی آپ سے پوچھی جاتی جس کے متعلق وحی نازل نہ کی گئی ہوتی تو آپ فرماتے : میں نہیں جانتا یا آپ اس وقت تک جواب نہ دیتے جب تک کہ آپ پر وحی نہ نازل کی جاتی اور آپ رائے سے کچھ نہ کہتے اور نہ قیاس سے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”نبی کے دل میں جو خیالات اُٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں در حقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوْلى (النجم : ۵،۴) لیکن قرآن کریم کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر یک بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلاشبہ وحی ہوتی ہے تمام احادیث اسی درجہ کی وحی میں داخل ہیں جن کو غیر متلو وحی کہتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۳،۳۵۲) نیز فرمایا: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلاشبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل، خفی ہو یا جلی، بین ہو یا مشتبہ، یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور ستر میں بیویوں سے تھے یا جس قدر اکل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے