صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 594
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۴ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ہیں۔ چنانچہ ابو داؤد وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بچند وسائط عبد اللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ نے کہا کہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا تا میں اُس کو حفظ کرلوں۔ پس بعض نے مجھ کو منع کیا کہ ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا اور اس بات کا رسول اللہ صلعم کے پاس ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہوتا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اُنہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی ؟ گو آنحضرت اس پر قائم نہیں رکھے گئے۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں تھے۔ پس اس اجتہادی غلطی کی ایسی ہی مثل مل ہے ہے : جیسے آنحضرت صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کو نماز میں چند دفعہ سہو واقع ہوا تا اُس سے دین کے مسائل پیدا ہوں۔ سواسی طرح بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اُس سے بھی تکمیل دین ہو اور بعض باریک مسائل اُس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہمرنگ وحی تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اُس کو کبھی ایسی طرف مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔ سو ہم اس اجتہادی غلطی کو بھی وحی سے علیحدہ نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ایک معمولی بات نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نبی کو اپنے قبضہ میں لے کر مصالح عام کے لئے ایک نور کو سہو کی صورت میں یا غلط اجتہاد کے پیرا یہ میں ظاہر کر دیتا تھا اور پھر ساتھ ہی وحی اپنے جوش میں آجاتی تھی جیسے ایک چلنے والی نہر کا ایک مصلحت کے لئے پانی روک دیں اور پھر چھوڑ دیں۔ پس اس جگہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ نہر سے پانی خشک ہو گیا یا اُس میں سے اُٹھا لیا گیا۔ یہی حال ہوتے تھے۔