صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 592 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 592

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۲ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بَاب : مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ مِمَّا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي أَوْ لَمْ يُجِبْ حَتَّى يُنْزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ وَلَمْ يَقُلْ بِرَأْيِ وَلَا قِيَاسٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بات بھی آپ سے پوچھی جاتی جس کے متعلق وحی نازل نہ کی گئی ہوتی تو آپ فرماتے: میں نہیں جانتا یا آپ اس وقت تک جواب نہ دیتے جب تک کہ آپ پر وحی نہ نازل کی جاتی اور آپ رائے سے کچھ نہ کہتے اور نہ قیاس سے لِقَوْلِهِ تَعَالَى : بِمَا اَركَ الله (النساء : ١٠٦) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بما أربك الله - یعنی وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے۔اور حضرت ابن مسعودؓ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ فَسَكَتَ حَتَّى نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق نَزَلَتِ الْآيَةُ۔پوچھا گیا اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی۔۷۳۰۹: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۷۳۰۹ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ میں نے ابن منکدر سے سنا۔وہ کہتے تھے : میں نے عَبْدِ اللهِ يَقُولُ مَرِضْتُ فَجَاءَنِي حضرت جابر بن عبد اللہ سے سنا۔کہتے تھے : میں رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیمار ہوا تو رسول اللہ کی ایم اور حضرت ابو بکر میری عیادت کو میرے پاس آئے اور وہ دونوں پیدل چل يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَأَتَانِي کر آئے اور ایسے وقت میں وہ میرے پاس پہنچے کہ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ مجھ پر غشی طاری تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ وضو کیا اور پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا جس سے میں عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَرُبَّمَا ہوش میں آگیا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور کبھی قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللهِ سفیان نے یوں کہا: میں نے کہا: اے رسول اللہ ! میں كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي كَيْفَ أَصْنَعُ اپنی جائیداد کے متعلق کیسے فیصلہ کروں؟ میں اپنی