صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 590
صحیح البخاری جلد ۱۶ غَيْرَ هَذَا الْأَمْرِ۔۵۹۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اپنے کندھوں پر اپنی تلوار میں رکھیں تو ضرور ہی اُن تلواروں نے ہمیں اس نتیجہ تک آسانی سے پہنچا دیا جس کو ہم خوب سمجھتے تھے سوائے اس مہم کے۔قَالَ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ شَهِدْتُ صِفِّينَ (اعمش نے) کہا: ابو وائل کہتے تھے: میں صفین میں وَبِئْسَتْ صِفِّينَ۔أطرافه: ۳۱۸۱، ۳۱۸۲، ٤١٨٩، ٤٨٤٤۔موجود تھا اور کیا ہی بری تھی صفین ( کی لڑائی)۔رح: مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَقِ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ: رائے زنی کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنے کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتوی نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اُس حدیث کو چھوڑ دیں۔یاد رکھیں کہ ہماری جماعت بہ نسبت عبد اللہ کے اہلحدیث سے اقرب ہے اور عبد اللہ چکڑالوی کے بیہودہ خیالات سے ہمیں کچھ بھی مناسبت نہیں۔ہر ایک جو ہماری جماعت میں ہے اُسے یہی چاہیئے کہ وہ عبد اللہ چکڑالوی کے عقیدوں سے جو حدیثوں کی نسبت وہ رکھتا ہے بدل متنفر اور بیزار ہو اور ایسے لوگوں کی صحبت سے حتی الوسع نفرت رکھیں کہ یہ دوسرے مخالفوں کی نسبت زیادہ بر باد شدہ فرقہ ہے اور چاہیئے کہ نہ وہ مولوی محمد حسین کے گروہ کی طرح حدیث کے بارہ میں افراط کی طرف جھکیں اور نہ عبد اللہ کی طرح تفریط کی طرف مائل ہوں