صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 589
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۹ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حَفِظَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو۔حَدَّلْتَنِي عَنْهُ فَجِئْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي عبد الله کے پاس چلو اور وہ حدیث جو تم نے مجھے بِهِ كَنَحْوِ مَا حَدَّثَنِي فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ اُن سے روایت کرتے ہوئے بتائی تھی وہ مجھے اُن فَأَخْبَرْتُهَا فَعَجِبَتْ فَقَالَتْ وَاللهِ لَقَدْ سے ٹھیک ٹھیک پوچھ دو تو میں ان کے پاس آیا اور اُن سے پوچھا تو انہوں نے اس حدیث کو مجھ سے اس طرح بیان کیا جس طرح انہوں نے پہلے مجھے سے بیان کیا تھا۔پھر میں حضرت عائشہ کے پاس آیا اور اُن کو (وہ حدیث) بتائی تو حضرت عائشہ نے تعجب کیا اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم ! عبد اللہ بن عمرو طرفه: نے خوب یاد رکھا۔۷۳۰۸: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۷۳۰۸: عبد ان نے ہم سے بیان کہ ابو حمزہ نے أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشِ قَالَ سَأَلْتُ ہمیں بتایا کہ میں نے اعمش سے سنا۔انہوں نے أَبَا وَائِلٍ هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ؟ قَالَ نَعَمْ کہا: میں نے ابو وائل سے پوچھا: کیا آپ صفین میں فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ ح موجود تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔اور میں نے حضرت سہل بن حنیف سے سنا۔وہ کہتے تھے۔و حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا نیز موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَا أَيُّهَا ابووائل سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ لَقَدْ سهل بن حنیف کہتے تھے: اے لوگو! اپنے دین کے مقابل میں اپنی ہر رائے کو غلط سمجھا کرو۔میں اپنے رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ تئیں اُس دن دیکھ چکا ہوں جس دن ابو جندل آیا تھا أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ لَرَدَدْتُهُ وَمَا اور اگر میں رسول اللہ (صلی ) کی بات کو ر ڈ کر سکتا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ تو میں ضرور اس کو ر ڈ کرتا۔ہم نے جب بھی کسی يُفْطِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ ایسی مہم کے لئے کہ جس نے ہمیں اچانک گھبر ادیا ہو