صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 591
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۹۱ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بلکہ اس بارہ میں وسط کا طریق اپنا مذہب سمجھ لیں یعنی نہ تو ایسے طور سے بکلی حدیثوں کو اپنا قبلہ و کعبہ قرار دیں جس سے قرآن متروک اور مہجور کی طرح ہو جائے اور نہ ایسے طور سے ان حدیثوں کو معطل اور لغو قرار دیدیں جن سے احادیث نبویہ بکلی ضائع ہو جائیں۔“ نیز آپ نے فرمایا: ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۲، ۲۱۳) طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کاملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: ۳۷) سو اگر میں دلیری کر کے اس معاملہ میں دخل دوں اور یہ کہوں کہ میرے نزدیک جو کچھ محدثین خصوصاً امامین بخاری اور مسلم نے تنقید احادیث میں تحقیق کی ہے اور جس قدر احادیث وہ اپنی صحیحوں میں لائے ہیں وہ بلاشبہ بغیر حاجت کسی آزمائش کے صحیح ہیں تو میرا ایسا کہنا کن شرعی وجوہات و دلائل پر مبنی ہو گا؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے ہیں اور مجتہد کبھی مصیب اور کبھی مخطی بھی ہوتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کہ ہمارے بھائی مسلمان موحدین نے کس قانون قطعی اور یقینی کی رُو سے ارو سے ان تمام احادیث کو واجب العمل ٹھہرایا ہے تو میرے اندر سے نور قلب یہی شہادت دیتا ہے کہ صرف یہی اک وجہ ان کے واجب العمل ہونے کی پائی جاتی ہے کہ یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ علاوہ اس خاص تحقیق کے جو تنقید احادیث میں ائمہ حدیث نے کی ہے۔ وہ حدیثیں قرآن کریم کی کسی آیہ محکمہ اور بینہ سے منافی اور متغائر نہیں ہیں اور نیز اکثر احادیث جو احکام شرعی کے متعلق ہیں تعامل کے سلسلہ سے قطعیت اور یقین تام کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں ورنہ اگر ان دونوں وجوہ سے قطع نظر کی جائے تو پھر کوئی وجہ ان کے یقینی الثبوت ہونے کی معلوم نہیں ہوتی۔ “ (الحق مباحثہ لدھیانہ ، روح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه (۱۹)