صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 588 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 588

QAA ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة صحیح البخاری جلد ۱۶ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ معاصی کے مرتکب افراد کو پناہ دینا ان کے گناہ میں شریک بنا دیتا ہے کیونکہ جو شخص کسی قوم کے فعل اور اُن کے عمل پر راضی ہو جاتا ہے تو وہ اُن میں ہی شامل ہو جاتا ہے۔مدینہ کا ذکر خصوصیت سے کرنے کی وجہ اُس کا شرف ہے کیونکہ وہ نزول وحی کا مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے دین زمین کے کناروں تک پھیلا ہے۔اس کی فضیلتیں اور عظمتیں ان کے علاوہ اور بھی ہیں۔(فتح الباری، جزء۱۳ صفحه ۳۴۵) بَاب : مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ رائے زنی کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنے کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وَلَا تَقْفُ لَا تَقُلْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) ولا تقف یعنی وہ بات نہ (بنی اسرائیل:۳۷) کہو جس کا تجھے علم نہیں۔:۷۳۰۷: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ حَدَّثَنِي ۷۳۰۷ : سعيد بن تلید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن : ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وہب نے مجھے بتایا۔عبد الرحمن بن شریح وغیرہ شُرَيْحٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ نے مجھ سے بیان کیا۔ان سب نے ابوالا سود سے ، عُرْوَةً قَالَ حَجَّ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ابو الاسود نے عروہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عَمْرٍو فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص) حج کو گئے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے سنا۔کہتے تھے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ يَنْزِعُ الْعِلْمَ بَعْدَ أَنْ أَعْطَاكُمُوهُ انْتِزَاعًا فرماتے تھے: اللہ علم کو تمہیں دینے کے بعد یونہی وَلَكِنْ يَّنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ مَعَ قَبْضِ الْعُلَمَاءِ جھپٹ مار کر نہیں چھین لیتا بلکہ علماء کو مع علم اُٹھا کر اس بِعِلْمِهِمْ فَيَبْقَى نَاسٌ جُهَّالْ يُسْتَفْتَوْنَ کو لوگوں سے چھینتا ہے۔پھر جاہل لوگ رہ جاتے فَيَفْتُونَ بِرَأْيِهِمْ فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ ہیں۔اُن سے فتویٰ پوچھا جائے تو اپنی رائے سے فَحَدَّثْتُ بِهِ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ فتویٰ دیتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں اور گمراہ ہوتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ہیں۔میں نے نبی صلی ا کرم کی زوجہ حضرت عائشہ سے حَجَّ بَعْدُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي انْطَلِقُ یہ بیان کیا۔پھر اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرو إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاسْتَثْبِتْ لِي مِنْهُ الَّذِي حج کو آئے تو حضرت عائشہ نے کہا: میرے بھانجے !