صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 572
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۲ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اُس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پید اہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندر ہی نشو و نما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک و شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی کمزوری نفاق تک پہنچادیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اُسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا که انسان اپنی روح کو ہلاک کر لے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذراسی بات پر سوال کرنا مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ (المائدة: ١٠٢) اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیاں نکالتا ر ہے۔یہ دو نو طریق بُرے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہیئے۔یہ ایسی بات ہے کہ اگر کوئی شخص خراب غذا کھالے اور وہ پیٹ میں جا کر خرابی پیدا کرے اور اس سے جی متلانے لگے تو چاہیے کہ فور آئے کر کے اس کو نکال دیا جائے لیکن اگر وہ اس کو نکالتا نہیں تو پھر وہ آلات ہضم میں فتور پیدا کر کے صحت کو بگاڑ دے گی۔جیسے ایسی غذا کو فور نکالنا چاہیئے اسی طرح جو بات دل میں کھٹکے اسے جلد باہر نکال دو۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۳۸۵) بَاب ٤ : الِاقْتِدَاءُ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی پیروی کرنا ۷۲۹۸: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۲۹۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن دینار اللهُ عَنْهُمَا قَالَ اتَّخَذَ النَّبِيُّ سے، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عُمَرَ رَضِيَ ا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے