صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 565 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 565

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۵ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة أَنَسٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ نُهِينَا ثابت نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم حضرت عمرؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: تکلف سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔عَنِ التَّكَلُّفِ۔مَالِكٍ رَضِيَ ٧٢٩٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۲۹۴: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا اور محمود نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد الرزاق نے مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی سے روایت کی۔(انہوں نے کہا) کہ حضرت انس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عليه وسلم جب سورج ڈھل گیا، باہر آئے اور آپ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ نے نماز ظہر پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو منبر پر بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ کھڑے ہوئے اور اس گھڑی کا ذکر کیا اور بتایا کہ أَحَبَّ أَنْ يُسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ اس سے پہلے کئی عظیم الشان واقعات ہوں گے۔پھر فرمایا: جو شخص کوئی بات پوچھنا چاہے تو وہ اس عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا کے متعلق پوچھ لے۔اللہ کی قسم ! جب تک کہ میں أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا اپنی اس جگہ کھڑا ہوں، جو بات بھی تم مجھ سے پوچھو قَالَ أَنَسٌ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ وَأَكْثَرَ ے میں وہ تمہیں ضرور بتاؤں گا۔حضرت انس کہتے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تھے: یہ سن کر لوگ بہت روئے اور رسول اللہ يَقُولَ سَلُونِي فَقَالَ أَنَسٌ فَقَامَ إِلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم بھی بار بار فرماتے تھے: مجھ سے رَجُلٌ فَقَالَ أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ پوچھو۔حضرت انس کہتے تھے : آخر ایک شخص اُٹھ قَالَ النَّارُ فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ کر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہ ! میں فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَبُوكَ کہاں جاؤں گا؟ فرمایا: آگ میں۔پھر عبد اللہ بن حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي حذافہ اُٹھے اور کہنے لگے: یارسول اللہ ! میرا باپ سَلُونِي فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ کون ہے؟ فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔پھر بار بار