صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 563
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۳ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا نماز پڑھی یہاں تک کہ کچھ لوگ آپ کے پاس صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ اکٹھے ہو گئے، پھر انہوں نے ایک رات آپ کی بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ آہٹ نہ پائی تو وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں۔یہ مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ خیال کر کے اُن میں سے بعض کھنکارنے لگے تاکہ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ آپ اُن کے پاس باہر آئیں تو آپ نے فرمایا: یہ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا تمہارا کام (میرے پیچھے نفل پڑھنا) جو میں نے النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ دیکھا ہے کہ تم برابر کر رہے ہو، اس سے میں ڈر گیا کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور اگر تم پر فرض کر دی گئی تو تم اس کو قائم نہ کر سکو گے۔کو ! تم اپنے گھروں میں ہی یہ نماز پڑھو کیونکہ آدمی کی افضل نماز وہی ہے جو وہ اپنے گھر میں۔الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ۔أطرافه: ۷۳۱، ٦١١٣- پڑھے سوائے فرض نماز کے۔۷۲۹۱: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۷۲۹۱ یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید بن ابی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِي بُردہ سے ابی بُردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أَكْثَرُوا علیہ وسلم سے کچھ باتیں پوچھی گئیں جنہیں آپ نے عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ غَضِبَ وَقَالَ سَلُونِي ناپسند فرمایا۔جب آپ سے بہت سوال کئے گئے تو فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي آپ رنجیدہ ہوئے اور فرمایا: مجھ سے پوچھو۔اس پر قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یارسول اللہ ! میرا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي فَقَالَ أَبُوكَ سَالِمٌ باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا بِوَجْهِ ہے۔پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور پوچھا: میرا باپ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ سالم ہے جو