صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 548
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۸ -۹۶- کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اسی وصیت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کر گئے۔ پھر اسی بخاری کے صفحہ ۱۰۸۰ میں یہ حدیث ہے : وَهَذَا الكِتَابُ الَّذِي هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَكُمْ فَخُذُوا بِهِ تهتدوا۔ یعنی اسی قرآن سے تمہارے رسول نے ہدایت پائی ہے سو تم بھی اسی کو اپنا رہنما پکڑو تا تم ہدایت پاؤ۔ پھر بخاری کے صفحہ ۲۵۰ میں یہ حدیث ہے: مَا عِندَنَا شَى إِلَّا كِتَابُ الله - یعنی کتاب اللہ کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چیز نہ نہیں جس سے بالاستقلال تمسک پکڑیں۔ پھر بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میں یہ حدیث ہے: حَسْبُكُمُ القرآن یعنی تمہیں قرآن کافی ہے۔ پھر بخاری میں یہ بھی حدیث ہے: حَسْبُنَا كتاب الله، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ دیکھو صفحہ ۲۹۰، ۳۷۷، ۳۴۸ اور یہی اصول اور یہی اصول محکم ائمہ کبار کا ہے۔ چنانچہ تلو ۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے : يُردُّ خبرُ الْوَاحِدِ مِنْ مُعَارَضَةِ الْكِتَاب۔ پس جس صورت میں خبر واحد جس میں احادیث بخاری و مسلم بھی داخل ہیں بحالت معارضہ کتاب اللہ رڈ کرنے کے لائق ہے تو پھر کیا یہ ایمانداری ہے کہ اگر کسی آیت کا کسی حدیث سے تعارض معلوم ہو تو آیت کے زیر وزبر کرنے کی فکر میں ہو جائیں اور حدیث کی تاویل کی طرف رُخ بھی نہ کریں۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ صحابہ کرام اور سلف صالح کی یہی عادت تھی کہ جب کہیں آیت اور حدیث میں تعارض و تخالف پاتے تو حدیث کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۰ ، ۶۱۱) بَاب ۱ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: مجھے جامع باتیں دے کر بھیجا گیا ہے ۷۲۷۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۲۷۳ : عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے سعید بن مسیب أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا مجھے جامع باتیں دے کر بھیجا گیا اور رُعب سے