صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 539
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۹ ۹۵ - کتاب اخبار الآحاد أَنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَّمْ فرمایا: اپنی قوم میں یا ( فرمایا:) اپنے لوگوں میں يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ۔أطرافه: ١٩٢٤، ٢٠٠٧ - اعلان کر دو کہ جس نے کچھ کھا لیا ہو تو وہ باقی دن بھی روزے کو پورا کرے اور جس نے نہ کھایا ہو تو وہ بھی روزہ رکھ لے۔تشریح : مَا كَانَ يَبْعَثُ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الْأُمَرَاءِ وَالرُّسُلِ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِيةٍ بي صلى الله عليه وسلم جو امیروں اور اینچیوں کو ایک کے بعد ایک کو بھیجا کرتے تھے۔اس عنوانِ باب سے ظاہر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا امیر اور سفیر بنا کر ایک شخص کو بھیجنا خبر واحد کی حیثیت رکھتا تھا اور یکے بعد دیگرے ان کا بھیجا جانا یقینا خبر واحد کی توثیق پر دلالت کرتا ہے۔علامہ ابن حجر نے اس بارہ میں امام شافعی کا قول درج کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرایا بھیجے تو آپ نے ہر مہم پر کسی ایک شخص کو امیر بنا کر بھیجا۔بادشاہوں کی طرف ایلچی بھیجے توہر بادشاہ کی طرف کسی ایک شخص کو اپیلچی بھیجا۔اسی طرح ہمیشہ حکم و مناہی پر مشتمل آپ کے خطوط آپ کے امراء کی طرف جایا کرتے تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے آپ کے حکم کو نافذ نہ کیا ہو اور آپ کے بعد خلفاء بھی اسی طرح تھے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۹۶، ۲۹۷) روایت نمبر ۷۲۶۵ میں ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسلم کے ایک شخص کو عاشوراء کے روزے کے متعلق اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔علامہ ابن حجر" کے نزدیک یہ ہند بن اسماء بن حارثہ اسلمی تھے۔شارحین نے نہایت تفصیل کے ساتھ آپ کے امراء وسفراء کے اسماء کا تذکرہ کیا ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ وہ شہر جو ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فتح ہوئے اُن میں سے مکہ پر آپ نے حضرت عتاب بن اُسیڈ کو امیر بنایا، طائف پر حضرت عثمان بن ابی العاص کو ، بحرین پر حضرت علاء بن حضر می کو، عمان پر حضرت عمرو بن العاص کو ، نجران پر حضرت ابو سفیان بن حرب کو ، صنعاء اور یمن کے پہاڑی علاقوں پر حضرت باذان کو ، ساحلی علاقوں پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو اور قافلوں وغیرہ پر حضرت معاذ بن جبل کو مقرر فرمایا۔اسی طرح آپ نے حضرت عمرو بن سعید بن العاص کو وادی القری پر اور حضرت یزید بن ابی سفیان کو تیاء پر اور حضرت ثمامہ بن اثال کو یمامہ پر امیر بنایا۔آپ کے امراء میں سے حضرت ابوبکر صدیق بھی ہیں جنہیں آپ نے وھ کے حج کے لیے امیر بنایا تھا اور حضرت علی ہیں جنہیں آپ نے حضرت ابو بکر کی امارت حج میں مشرکین پر سورہ تو بہ پڑھ کر سنادینے کے لیے بھیجا تھا۔حضرت علی کو یمن میں غنائم میں سے شمس نکال کر تقسیم کرنے کے لیے بھی بھیجا تھا اور حضرت ابو عبیدہ نہیں جنہیں آپ نے بحرین سے جزیہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا تھا۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ خیبر کی کھجوروں کا تخمینہ لگانے پر مامور تھے۔اسی طرح وہ نگران بھی ہیں جنہیں آپ زکوۃ وصول کرنے کے لیے مقرر فرمایا کرتے تھے اور وہ امراء بھی ہیں جو سر ایا ودیگر مہمات کے لیے بنائے جاتے تھے اور ان کی امارت سریہ یا مہم کے اختتام تک ہوا کرتی تھی۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۹۷)