صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 540
صحيح البخاری جلد ١٦ ۵۴۰ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سفیر بادشاہوں اور حکمرانوں کی طرف بھیجے اُن میں سے حضرت دحیہ کلبی اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ کا حوالہ تو معنونہ روایات میں مذکور ہے۔علامہ عینی آن سفیروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ نے تبلیغی خط کے ساتھ مقوقس شاہ اسکندریہ (مصر) کی طرف حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو بھیجا تھا اور حارث بن ابی شمر عنسانی جو شام کے علاقے بلقاء کا حکمران تھا، کی طرف حضرت شجاع بن وہب کو بھیجا۔حضرت دحیہ بن خلیفہ الکلبی کو قیصر روم کی طرف، حضرت سلیط بن عمرو عامری کو یمامہ کے حکمران ہو زہ بن علی کی طرف بھیجا تھا، حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو حبشہ کے بادشاہ حضرت اصحمہ نجاشی کی طرف بھیجا، حضرت عبد اللہ بن حذافہ کو کسری کی طرف بھیجا گیا، حضرت علاء بن حضر مٹی کو بحرین کے حکمران منذر بن ساوی کی طرف اور حضرت حارث بن عمیر کو بصری کے حکمران کی طرف بھیجا گیا تھا۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحه ۲۰،۱۹) بَاب :٥ وَصَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُفُودَ الْعَرَبِ أَنْ يُبَلِّغُوا مَنْ وَرَاءَهُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب کے نمائندوں کو یہ تاکید فرمانا کہ وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو ان کے پیچھے ہیں قَالَهُ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ۔اس بات کو مالک بن حویرث نے نقل کیا۔٧٢٦٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا ۷۲۶۶: علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ ح۔وَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا نے ہمیں بتایا۔اور اسحاق بن راہویہ ) نے مجھ سے النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ بیان کیا کہ نفر نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ابو جمرہ سے روایت کی۔انہوں كَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نے کہا: حضرت ابن عباس اپنے تخت پر مجھے بٹھایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ عبد القیس کے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نمائندے جب رسول اللہ صل الم کے پاس آئے تو مَنِ الْوَفْدُ؟ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا آپ نے پوچھا: یہ نمائندے کون ہیں؟ انہوں نے بِالْوَفْدِ وَ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى کہا: ربیعہ۔آپ نے فرمایا: خوشی سے آئیں یہ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ نمائندے اور یہ لوگ کبھی رسوا نہ ہوں اور نہ شرمندہ كُفَّارَ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرِ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے اور آپ کے وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَسَأَلُوا عَنِ درمیان مضر کے کا فر ہیں، آپ ہمیں ایسی بات کا حکم