صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 537 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 537

صحیح البخاری جلد ۱۶ الدَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ۔۵۳۷ ۹۵ - کتاب اخبار الآحاد نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔پھر حضرت عثمان آئے۔آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔أطرافه: ٣٦٧٤ ، ٣٦٩٣ ٣٦٩٥، ٦٢١٦، ٧٠٩٧۔٧٢٦٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۲۶۳: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسِ عَنْ يحي بن سعید انصاری) سے، بچی نے عبید بن حسنین عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ جِنْتُ فَإِذَا سے روایت کی۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سنا۔وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے مَشْرُبَةٍ لَهُ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تھے کہ انہوں نے کہا: میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ رسول اللہ صلی الی یکم اپنے ایک بالا خانہ میں ہیں اور فَقُلْتُ قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رسول اللہ میں ہی کام کا ایک حبشی غلام زینے کی چوٹی پر بیٹھا ہے۔میں نے کہا: کہو کہ عمر بن خطاب آیا ہے، فَأَذِنَ لِي۔آپ نے مجھے اجازت دی۔أطرافه : ۸۹، ۲٤٦۸ ، ٤۹۱۳، ٤٩١٤، ۱۹۱٥، ۵۱۹۱، ٥۲۱۸، ٥٨٤، ٧٢٥٦۔تشريح : لَا تَدْخُلُوابُيُوتَ النَّبِي إِلا أَن يُؤْذَنَ لكُم : نبی کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تم کو اجازت دی جائے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ معنونہ آیت سے امام بخاری کے استدلال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اجازت پانے کو کسی عدد سے محدود نہیں کیا گیا، لہذا اکیلے شخص سے بھی اجازت کے وجود کی تصدیق ہو جاتی ہے۔نیز آیت کریمہ میں مجہول کا صیغہ یہ بتارہا ہے کہ اجازت دینا ایک شخص کا بھی درست ہے اور اس سے زیادہ کا بھی اور معنونہ احادیث سے امام بخاری نے ایک شخص (کی خبر) پر کفایت کرنے سے آیت کریمہ کے تقاضا کا پورا ہو جانا مراد لیا ہے۔پس اس میں خبر واحد کے قبول کیے جانے کی دلیل ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحه ۲۹۵، ۲۹۶)