صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 527 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 527

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۵۲۷ -۹۵- کتاب اخبار الآحاد اثنا میں کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے پاس بیٹھے ہوئے ٧٢٦٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۲۶۰: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ الله نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا (انہوں نے کہا:) مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے بتایا کہ حضرت ابو ہریر کا نے کہا: اس هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِّنَ تھے کہ بدوؤں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ لگا: یارسول اللہ ! کتاب اللہ کے موافق میرا فیصلہ کر لِي بِكِتَابِ اللهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ دیں۔(یہ سن کر ) اس کا مخالف کھڑا ہوا اور بولا: یا صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ لَهُ بِكِتَابِ رسول اللہ ! اس نے سچ کہا ہے، کتاب اللہ کے موافق اللهِ وَأَذَنْ لِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہی اس کا فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں۔نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كان ملی مریم نے اس سے فرمایا: بیان کرو۔اس نے کہا: میرا عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا اور ملازم نوکر کو کہتے ہیں، تو اس نے اس کی عورت سے زنا کیا، لوگوں نے فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، میں نے الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِّنَ الْغَنَمِ وَ ایک سو بکری اور ایک لونڈی فدیہ دے کر اس کو وَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي اس سے چھڑایا پھر اس کے بعد میں نے اہل علم سے أَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ وَإِنَّمَا عَلَى ابْنِي پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی کو سنگسار جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ وَالَّذِي کیا جائے گا اور میرے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا اللَّهِ أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْعَنَمُ فَرُدُّوهَا وَأَمَّا جاوے گا۔آپ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تم ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ۔دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ گا۔وہ لونڈی اور بکریاں تو واپس کر دو اور تیرے فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْس فَاعْتَرَفَتْ جلا وطن کیا جائے اور اسلم قبیلہ کے ایک شخص کا نام