صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 512
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۱۲ ۹۴ - كتاب التمني حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ جعفر نے عبد الرحمن سے روایت کی۔ (انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ وسلم نے فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں اُنہیں مسواک طرفه: ۸۸۷ کرنے کا ضرور حکم دیتا۔ ٧٢٤١ : حَدَّثَنَا عَيَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ۷۲۴۱: عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ عبد الاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ محمید نے ہم سے بیان کیا۔ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مُحمید نے ثابت سے ، ثابت نے حضرت انس رضی وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ آخِرَ الشَّهْرِ وَوَاصَلَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ علیہ وسلم نے مہینے کے آخر میں بغیر افطار کے لگا تار روزے رکھے اور لوگوں میں سے بھی کچھ آدمیوں فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ نے بغیر افطار لگا تار روزے رکھنے شروع کئے۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں لگاتار بغیر افطار کے اتنے لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ۔ روزے رکھتا کہ یہ تکلف کرنے والے اپنے تکلف کو چھوڑ دیتے۔ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو ایسا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ عَنْ ثَابِتٍ (حمید کی طرح) سلیمان بن مغیرہ نے بھی اس کو عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کیا۔ سلیمان نے ثابت سے، ثابت نے وَسَلَّمَ۔ طرفه: ١٩٦١ - حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔