صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 511
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۱۱ ۹۴ - كتاب التمني أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ دیتا۔سفیان بن عیینہ) نے بھی یوں کہا: اپنی امت الصَّلَاةَ فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ کو۔اور ابن جریج نے عطاء سے ، عطاء نے حضرت رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ ابن عباس سے یہ الفاظ نقل کئے : نبی صلی اللہ علیہ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِهِ يَقُولُ إِنَّهُ وَسلم نے اس نماز میں دیر کر دی تو حضرت عمر آئے لَلْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي۔۔۔اور کہنے لگے: یارسول اللہ ! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔آپ باہر آئے اور اپنے سر کی ایک جانب سے پانی پونجھ رہے تھے ، فرمارہے تھے : یہی اصل وقت ہے۔اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو طرفه: ٥٧١- مشقت میں ڈال دوں گا۔۔۔وَقَالَ عَمْرُو حَدَّثَنَا عَطَاءٌ لَيْسَ فِيهِ اور عمرو بن دینار) نے کہا: ہم سے عطاء نے بیان ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا عَمْرُو فَقَالَ رَأْسُهُ کیا۔اس سند میں حضرت ابن عباس کا نام نہیں، يَقْطُرُ۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ يَمْسَحُ الْمَاءَ لیکن عمرو بن دینار) نے یوں کہا کہ آپ کا سر پانی عَنْ شِقِهِ۔وَقَالَ عَمْرُو لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ سے ٹپک رہا تھا۔اور ابن جریج نے کہا: آپ اپنے عَلَى أُمَّتِي۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ إِنَّهُ سر کی ایک جانب سے پانی پونجھ رہے تھے۔اور عمرو نے کہا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت لَلْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي۔کو مشقت میں ڈال دوں گا۔اور ابن جریج نے وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنٌ کہا: یہی تو اصل وقت ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔اور عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ابراہیم بن منذر نے کہا: معن ( بن عیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن مسلم نے مجھے بتایا۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نے عمرو بن دینار) سے، عمرو نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباس سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔٧٢٤٠: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۷۲۴۰: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث