صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 506
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۶ ۹۴ - كتاب التمني تشریح۔مَا يُكْرَهُ من العملي: آرزو کرنا جو ناپسندیدہ ہے۔علامہ ابن حجز معنونہ آیت واحادیث کا ہے۔عنوان سے ربط بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آیت میں حسد کرنے سے تنبیہ کر کے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہنے کی تعلیم دی گئی ہے اور احادیث میں موت کی تمنا کرنے کی مناہی صبر کرنے کی ترغیب دلاتی عموماموت کی تمنا مصائب و شدائد کے حالات میں پیدا ہوتی ہے لہذا موت کی تمنا سے منع کر کے ایسے حالات میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔گویا اس وقت بے صبری دکھاتے ہوئے موت کی تمنا کرنا اللہ تعالی کی قضا و قدر پر نالاں اور ناخوش ہونا ہے جس طرح دوسروں کی آسودگی اور کشائش دیکھ کر حسد اور بغض کا پیدا ہو جانا قضاد قدر پر راضی نہ رہنا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ عافیت کی دعا کرنا ایمان بالغیب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی و انکساری اور بے بسی کا اظہار ہے جبکہ اس کے برعکس موت کی دعا میں تو کوئی ظاہری مصلحت نہیں بلکہ اس میں تو یہ خرابی ہے کہ اس میں زندگی جیسی نعمت کے زائل کیے جانے کا مطالبہ پایا جاتا ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۷۲،۲۷۱) روایت نمبر ۷۲۳۳ جو یہاں مختصر بیان ہوئی ہے، کتاب الدعوات میں تفصیلاً مذکور ہے۔حضرت انس الا اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی تکلیف کی وجہ سے جو اُسے ہوتی ہو موت کی دعا نہ کرے۔اگر اُس نے لاچار موت کی آرزو ہی کرنی ہے تو یوں کہے: اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب وفات میرے لیے بہتر ہو۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء بالموت والحياة، روایت نمبر ۶۳۵۱) ایک موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص نے خط لکھا اور موت کی خواہش کا اظہار کیا۔حضرت نے جواب میں فرمایا: ” آپ ہمیشہ ہر مجلس میں اکثر اوقات استغفار، لاحول، درود، الحمد پڑھا کرو۔یہ مجرب علاج ہے۔آپ جب تک ملانہ کریں گے یہ کمزوری دور نہ ہوگی۔إِلا أَن يَشَاءَ اللهُ کبھی اپنے حق میں بد دعانہ کرو، تاکید ہے۔اللہ تعالیٰ پر کسی کا احسان نہیں۔جب دعا کرونیک کرو۔اگر وہ سنتا ہے تو کیا بد دعا ہی سنتا ہے اور نیک دعا نہیں سنتا۔“ « ارشادات نور، جلد ۲ صفحه ۴۶ ۴۷) بَاب : قَوْلُ الرَّجُلِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا آدمی کا یہ کہنا: اگر اللہ نہ ہو تا تو ہم راہ راست نہ پاتے ٧٢٣٦: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنِي أَبِي :۷۲۳۶: عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ نے مجھے بتایا۔انہوں نے شعبہ سے روایت کی کہ