صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 505
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۰۵ ۹۴ - كتاب التمني حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ ابو الاحوص نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عاصم ( بن النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ الله سلیمان) سے، عاصم نے نضر بن انس سے روایت عَنْهُ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کی۔انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ تھے : اگر میں نے نبی صل اللہ ہم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی آرزونہ کرو تو ضرور میں آرزو کرتا۔لَتَمَنَّيْتُ۔أطرافه: ٥٦٧١، ٦٣٥١- ٧٢٣٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ :۷۲۳۴: محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ قَالَ أَتَيْنَا عبدہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (اسماعیل) بن ابی خَبَّابَ بْنَ الْأَرَةِ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى خالد سے، انہوں نے قیس سے روایت کی۔انہوں سَبْعًا فَقَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله نے کہا: ہم حضرت خباب بن ارت کے پاس اُن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ کی عیادت کرنے کو آئے اور انہوں نے سمات داغ لگائے ہوئے تھے۔کہنے لگے : اگر رسول اللہ لَدَعَوْتُ بِهِ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔أطرافه: ٥٦٧٢ ٦٣٤٩ ، ٦٣٥٠، ٦٤٣٠، ٦٤٣١- ٧٢٣٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۷۲۳۵: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اسْمُهُ سَعْدُ دی۔انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوعبید بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ سے روایت کی۔اُن کا نام سعد بن عبید ہے جو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الرحمن بن ازہر کے غلام تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی موت کی قَالَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا آرزو نہ کرے۔اگر وہ نیک ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اور نیکیاں کرے اور اگر وہ بُرا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ نیک عمل کر کے اللہ کی ناراضگی کو دور کرے۔مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ۔أطرافه ٣٩، ٥٦٧٣، ٦٤٦٣-