صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 458
صحیح البخاری جلد ۱۶ ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: لد ٧٥ ۹۳ - كتاب الأحكام "حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے سچائی سے اپنی غلطی کا صاف الفاظ میں اقرار کیا اور تا فیصلہ الہی ان سے بول چال اور تعلق رکھنے کی ممانعت کی گئی اور جنہوں نے قسم کھا کر اپنے عذر بیان کئے تھے ان سے چشم پوشی کی گئی اور انہیں معاف کیا گیا۔ اس واقعہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم کے دو پہلو واضح ہوتے ہیں۔ ضعیف الایمان طبقہ کی اصلاح نرمی اور درگزر سے اور قوی الایمان طبقہ کا تزکیہ نفس تعزیری کارروائی سے جو قومی اخلاق و کردار کی اعلیٰ تربیت کا باعث ہوئی۔ دنیا کا طریق عمل بالعموم اس سے بر عکس ہے۔ ارباب جاہ و منصب اور ذی ثروت و دولت مواخذہ سے نظر انداز کئے جاتے ہیں اور کمزور لوگ پکڑے جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے لونڈی اور غلام کی سزا آزاد سے نصف رکھی ہے ( الاحزاب : ۲۶) اور آنحضرت صلی اسلم کی ازواج مطہرات سے فرمایا: اگر تم نے احکامِ شریعت کا پاس نہ رکھا تو تمہیں دوگنی سزادی جائے گی۔ (الاحزاب : اس) الْبِطَانَةُ الدُّخَلَاءُ۔ ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۹ صفحه ۳۱۷) باب ٤٢ : بِطَانَةُ الْإِمَامِ وَأَهْلُ مَشُورَتِهِ امام کے رازدار اور اس کے مشیر بطانة کے معنی ہیں بھیدی۔ ۷۱۹۸: حَدَّثَنَا أَصْبَعُ أَخْبَرَنَا ابْنُ ۷۱۹۸: اصبغ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھ سے بیان کیا۔ یونس شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے ابو سلمہ سے، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه ابو سلمہ نے حضرت ابو سعید خدری سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ فرمایا اللہ نے کوئی ایسا نی نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی نَبِي وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا ایسا خلیفہ بنایا جس کے دوراز دار رفیق رفیق نہ ہوں۔ كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ ایک رفیق اس کو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور اس کو بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُصُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ اس کی ترغیب دیتا ہے اور ایک رفیق اس کو شر کا