صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 457 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 457

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۵۷ ۹۳ - كتاب الأحكام بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا جَاءَ اللهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ کہا: اپنے حق کے علاوہ، تو ضرور وہ قیامت کے دن الْقِيَامَةِ أَلَا فَلَأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ الله اللہ کے پاس اس کو اٹھائے ہوئے لائے گا۔ دیکھو رَجُلٌ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بِبَقَرَةِ لَهَا سنو ! وہ جو اللہ کے پاس لائے گا میں اسے ضرور خُوَارٌ أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ پہچان لوں گا، وہ اونٹ لے کر آئے گا جو بلبلا رہا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ أَلَا هَلْ ہو گا یا ایک گائے کو جو میں ہیں کر رہی ہو گی یا بَلَّغْتُ؟ ایک بکری کو جو ممیار ہی ہو گی۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے اونچے اٹھائے کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ فرمایا: سنو ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے ؟ أطرافه : ۹۲٥ ، ۱۵۰۰ ، ۲۵۹۷، ٦٦٣٦، ٦٩٧٩، ٧١٧٤۔ تشریح: مُحَاسَبَةُ الْإِمَامِ عُمالَهُ: حام کا اپنے کارکنوں کا محاسبہ کرنا۔ فتوح البلدان میں ہے کہ گان عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ يَكْتُبُ أَمْوَالَ عُمَالِهِ إِذَا وَلَا هُمْ ثُمَّ يُقَاسِمُهُمْ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ وَرُبَّمَا أَخَذَهُ منهم لے یعنی حضرت عمر بن خطاب اپنے عمال کا تقرر فرماتے ہوئے اُن کے اموال کو درج فرمالیتے تھے پھر جو (بعد میں ) اس سے زائد نکلتا، اُسے (حق کے مطابق) تقسیم کیا کرتے تھے اور بسا اوقات تو آپ اُن سے (سارے اموال ہی) لے لیتے تھے۔ علامہ طبری لکھتے ہیں کہ كَانَ مِنْ سُنَّةِ عُمَرَ وَسِيرَتِهِ أَنْ يَأْخُذَ عُمَالَهُ بِمُوَافَاةِ الْحَجِ فِي كُلِّ سَنَةٍ لِلسَّيَاسَةِ، وَلِيَعْجِزَهُمْ بِذَلِكَ عَنِ الرَّعِيَّةِ وَلِيَكُونَ لِشَكَاةِ الرعية وقتا وَغَايَةٌ يُنهونَهَا فِيهِ ! وقتا وَغَايَةٌ يُنْبُونَهَا فِيهِ إِلَيْهِ حضرت عمر کا یہ طریق عمل تھا کہ آپ اپنے عمال کو ر انتظام و انصرام کی خاطر ہر سال حج کے موقع پر حاضر ہونے کا ارشاد ارشاد فر فرمایا کرتے تھے اور اس سے یہ بھی غرض ہوا کرتی تھی کہ عوام کو اگر ان سے کوئی شکایت اور تکلیف ہو تو اُسے بروقت دور کیا جاسکے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ هُوَ كَانَ صَاحِبُ الْعُمَالِ أَيامَ عُمَرَ، كَانَ عُمَرُ إِذَا شَكَى إِلَيْهِ عَامِلٌ أرسل مُحَمَّدًا يَكْشِفُ الْحَالَ، وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَهُ عُمَرُ إِلَى عُمَالِهِ لِيَأْخُذَ شَطْرَ أَمْوَالِهِمْ لِثِقَتِهِ بِهِ یعنی حضرت عمرؓ کے دور میں انہیں عمال پر نگران مقرر کیا گیا تھا۔ حضرت عمرؓ کے پاس جب کسی عامل کے متعلق شکایت آتی تو آپ انہیں اصل حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ نیز حضرت عمرؓ ان پر اعتماد کی وجہ سے انہیں عمال کے اموال میں سے (حکومت کا حصہ نکالنے کی ذمہ داری بھی تفویض فرماتے تھے۔ حضرت سید زین العابدین (فتوح البلدان، فتح مصر والمغرب، صفحہ ۲۱۷،۲۱۶) (تاريخ الطبرى سنة اثنتين وعشرين، ذكر عزل عمار عن الكوفة، جزء ۴ صفحہ ۱۶۵، ۱۶۶) (اسد الغابة، ذكر محمد بن مسلمة، جزء ۵ صفحه ۱۰۶)