صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 23
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۳ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ ہشام بن عبد الله المخزومی کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ذئب کو کہتے سنا کہ عکرمہ غیر ثقہ تھا اور میں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔ (تهذيب التهذيب، لامام حافظ شهاب الدین احمد بن حجر العسقلاني، عكرمة البريري ابو عبد الله المدني مولی ابن عباس) پس ایک ایسی روایت پر بناء کرنا جس کے بارہ میں واضح طور پر ثابت ہو کہ اس کا راوی سخت جھوٹا تھا اور حضرت علی کا شدید دشمن تھا قطعا جائز نہیں۔“ ( اسلام میں ارتداد کی سزا صفحہ ۸۵ تا ۹۰، مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الرابع) بَاب : قَتْلُ مَنْ أَبَى قَبُولَ الْفَرَائِضِ وَمَا نُسِبُوا إِلَى الرِّدَّةِ جس نے اسلام کے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دیا اُس کا قتل کرنا اور جس قسم کے لوگ ارتداد کی طرف منسوب کئے گئے ٦٩٢٤ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۱۹۲۴: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید اللہ بن عبد اللہ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور حضرت رم أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ابوبکر خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جنہوں نے کافر ہونا تھا کافر ہو گئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اے قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ ابو بکر ! آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے حالانکہ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کا اس وقت تک مقابلہ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ کریں اور جس نے لا إله إلا اللہ کا اقرار کیا، اس إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ۔ أطرافه: ١٣٩٩، ١٤٥٧، ٧٢٨٤۔ نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بچالیا سوائے اس کے کہ کسی حق کے بدلے میں اُن کو لیا جائے اور اُس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔