صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 444
صحیح البخاری جلد ۱۶ هام سهام سهام ۹۳ - كتاب الأحكام قوموں کو چاہیے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں، اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں۔ لیکن اگر باوجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشترکہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے، سب قومیں مل کر لڑو یہاں تک کہ خدا کے حکم کی طرف وہ لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔ پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرا دو مگر انصاف اور عدل سے اور مروت سے کام لو۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ احمدیت یعنی حقیقی اسلام - انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) بَاب ۳۷ : يُسْتَحَبُّ لِلْكَاتِبِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا عَاقِلًا کا تب کا امین اور عقلمند ہونا پسندیدہ ہے ۷۱۹۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ ۷۱۹۱: محمد بن عبید اللہ ابو ثابت نے ہم سے بیان اللَّهِ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم نے رم سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید بن سباق السَّبَّاقِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَعَثَ ہے ، عبید نے حضرت زید بن ثابت سے روایت إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ کی۔ انہوں نے کہا: اہل یمامہ کی لڑائی میں حضرت ابو بکر نے مجھے بلا بھیجا اور اُن کے پاس حضرت عمر وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ تھے تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ عمر میرے پاس أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ آتے ہیں اور ا اور انہوں نے کہا ہے کہ یمامہ کی جنگ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَى میں قرآن کے قاری بہت مارے گئے ہیں اور أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي مجھے ڈر ہے اگر اسی طرح جنگوں میں قاری شہید الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ ہوتے گئے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو یکجا کرنے قُلْتُ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ کا حکم دیں۔ میں نے کہا: میں ایسا کام کیسے کروں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟