صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 440
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۴۰ ۹۳ - كتاب الأحكام أَسْلَمْنَا فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا فَجَعَلَ ہم مسلمان ہو گئے ہیں اور کہنے لگے۔ ہم نے دین خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ بدل لیا ہے ہم نے دین بدل لیا ہے۔ مگر خالد نے رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قبل اور قید کرنا شروع کیا اور ہم میں سے ہر ایک ! شخص کو اس کا قیدی حوالہ کیا اور ہر ایک کو حکم دیا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ۔ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا کہ وہ اپنے قیدی کو مار ڈالے ۔ میں نے کہا: بخدا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے أَصْحَابِي أَسِيرَهُ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنے قیدی کو قتل صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ کرے گا۔ پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ ذکر کیا آپ نے دو بار فرمایا: اے اللہ ! میں الْوَلِيدِ، مَرَّتَيْنِ۔ طرفه: ۴۳۳۹ تیرے حضور اس کام سے بری ہوں جو خالد بن رم ولید نے کیا۔ تشريح : إِذَا قَضَى إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلَافِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهُوَرَةٌ: اگر حاکم ظالمانہ فیصلہ کرے یا اہل علم کیخلاف فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ رڈ ہو گا۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ابن اسحاق نے واقعہ کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو جذیمہ کے ایک مخصوص حصے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اکثر مسلمان ہو چکے تھے۔ منکرین اسلام مسلح ہو کر لڑنے لگے۔ جس کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید نے اُن کا مقابلہ کیا اور شکست ہونے پر وہ قید کئے گئے۔ ان میں سے بعض اپنے آپ کو نرغے میں دیکھ کر صَبَأْنَا صَبَانا کے الفاظ سے اپنے اسلام کا اظہار کرنے لگے۔ صَبَانا کے معنی ہیں: ہم صابی ہو گئے یعنی اپنا دین تبدیل کر لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں لفظ صابی سے طنز اپکارے جاتے تھے اور لوگوں کو اس لفظ سے نفرت دلائی جاتی تھی۔ جیسے ہمیں قادیانی کہا جاتا ہے اور اگر کوئی پیغام احمدیت کو قبول کرلے تو اسے حقارت سے کہتے ہیں قادیانی ہو گیا ہے۔ یہی طنز و تحقیر کا مفہوم لفظ صبانا میں پایا جاتا ہے ۔ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَن يَقُولُوا أَسْلَمْنَا سے یہ مراد ہے کہ لڑنے والوں نے واضح طور پر اور انشراح سے اسلام قبول کرنے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ صبانا کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ اس فقرے سے وہ اپنے آپ کو لڑائی میں قتل سے بچا نہ سکے۔