صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 431
صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۴۳۱ ۹۳ - كتاب الأحكام ”مقدمات میں نبوت کے مقام کو کوئی دخل نہیں کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ میں مقدمات کے فیصلہ کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں۔ اگر نبی کے فیصلے منصب نبوت کے ماتحت ہوتے تو وہ ان میں کبھی غلطی نہ کر سکتا۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی الم نے ایک دفعہ ایک مقدمہ کا فیصلہ ایک شخص کے حق میں کر دیا تو دوسرے نے کہا کہ میں اس فیصلے کو تو مانتا ہوں مگر یہ ہے غلط۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی لستان شخص مجھے دھوکا دیکر مجھ سے اپنے حق میں فیصلہ کر والے مگر میرا فیصلہ اسے خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد ۶ صفحه ۳۲۰) گویا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ قضاء کے بارہ میں میں بھی غلطی کر سکتا ہوں۔ مگر باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ شرح صدر سے تیرے فیصلے کو نہیں مانیں گے تو یہ ایمان والے نہیں ہیں۔ پس اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ کی پوزیشن ایک ہی ہے۔ نظام کے قیام کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ ایک انسان کو ایسا حکم مان لیا جائے کہ جس کے فیصلہ کے آگے کوئی چون و چرا نہ کرے۔“ (انوار العلوم، جماعت احمدیہ کے خلاف تازہ فتنہ میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کا حصہ ، جلد ۱۴ صفحہ ۴۷۶) باب ۳۰ : الْحُكْمُ فِي الْبِئْرِ وَنَحْوِهَا کنویں وغیرہ کے متعلق فیصلہ کرنا ۷۱۸۳: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۷۱۸۳: اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عبد الرزاق بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ سفیان عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ (توری) نے ہمیں خبر دی۔ سفیان نے منصور اور قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اعمش سے، ان دونوں نے ابو وائل سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ (بن مسعودؓ ) صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ مجبور ہو کر ایسی قسم کھاتا ہے جس کے ذریعہ سے اللهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ وہ کوئی مال مار رہا ہوتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا