صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 430
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۳۰ ۹۳ - كتاب الأحكام ح۔مَنْ قُضِيَ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّ قَضَاءَ الْحَاكِمِ لَا يُحِلُّ حَرَامًا وَلَا يُحَرِّمُ حَلَالًا : جس کے لئے اپنے بھائی کے حق کے دلانے کا فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال نہیں کرتا اور حلال کو حرام نہیں کرتا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: دو بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جی ! فلاں نے ہم سے یہ سلوک کیا۔۔۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا کی خاطر جو بھی قوم قربانی کرتی ہے جو شخص قربانی کرتا ہے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بڑھ جاتا ہے۔اس لیے اگر یہ سلوک ہوا تو آپ تب بھی مراد پا گئے۔اس بیوقوف پر رحم کریں جس کا حق نہیں تھا۔اگر واقعی اس کا حق نہیں تھا وہ انعام پا گیا، وہ تو جاہل ہے وہ تو جانتا نہیں کہ اس کو کیا دیا جا رہا ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے دو فریق جھگڑا لے کر میرے پاس آئیں اور کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے، زیادہ چالاکی کی وجہ سے اس طرح معاملہ پیش کرے کہ میں حقدار کی بجائے کچھ حصہ حق کا ناحق کی طرف منتقل کر دوں تو اس کے نتیجے میں یہ نہ سمجھیں کہ چونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے اس لئے وہ اس کا حقدار ہو گیا۔اس نے صرف جہنم کا ایک ٹکڑا کمایا ہے اس سے زیادہ اس کو کچھ بھی نصیب نہیں۔(ابو داؤد کتاب القضاء : ۳۱۱۲) پس اگر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ا لم نعوذ بالله من ذالک حالات سے لاعلمی کے نتیجے غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔میرا ایمان ہے کہ نہیں کر سکتے مثال کے طور پر پیش فرمارہے ہیں۔مگر مثال یہی بتاتی ہے کہ اگر وہ کر سکتے تو ادنی ادنی بندے بعض دفعہ جان کر نہیں لاعلمی کے نتیجے میں فیصلہ غلط کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے جب آپ اس کے مقابل پر یہ رو عمل دکھائیں گے تو دو جرموں کا ارتکاب کریں گے۔اول یہ کہ اپنے بھائی پر بدظنی کی۔آپ نہیں جانتے کہ اس نے کیوں فیصلہ کیا۔دوسرے یہ کہ واقعہ اپنے آپ کو ذلیل سمجھا کہ گویا ہم سے کچھ چھین لیا گیا ہے۔آپ سے کوئی کچھ نہیں چھین سکتا۔یہ تو سارے سلسلے ہی رضائے الہی کے سلسلے ہیں، رضائے الہی کو کوئی کس طرح زبر دستی چھین سکتا ہے۔آپ کا مرتبہ خدا کی نظر میں ضرور بڑھتا ہے اس وقت۔جب آپ جائز حق سے محروم کئے جاتے ہیں اور اس کا مرتبہ جو نا جائز حق لیتا ہے ضرور گرتا ہے خدا کی نظر میں۔اس لئے اسلام ایک محفوظ مقام ہے بچے مسلمان کو کسی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ر اکتوبر ۱۹۸۷ء، جلد 4 صفحہ ۶۸۱،۶۸۰)