صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 428
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۸ ۹۳ - كتاب الأحكام بَاب ۲۹ : مَنْ قُضِيَ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّ قَضَاءَ الْحَاكِمِ لَا يُحِلُّ حَرَامًا وَلَا يُحَرِّمُ حَلَالًا جس کے لئے اپنے بھائی کے حق کے دلانے کا فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال نہیں کرتا اور حلال کو حرام نہیں کرتا ۷۱۸۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۷۱۸۱: عبد العزیز بن عبد اللہ (اویسی) نے ہم اللهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي اُنہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ نے مجھے بتایا کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا عَنْ اُنہیں بتایا کہ حضرت ام سلمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کی زوجہ نے انہیں بتایا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اپنے سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ حجرے کے دروازے پر کچھ جھگڑ اسنا۔آپ سن إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْحَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ کر اُن کے پاس باہر گئے اور فرمایا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور جھگڑنے والے میرے پاس آتے ہیں تو شاید تم میں سے کوئی کسی سے زیادہ بلیغ ہو اور فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ میں سمجھوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں اس بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِّنَ کے جھگڑے کے متعلق فیصلہ کر دوں تو جس کے النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا۔لئے کسی مسلمان کا حق دلانے کا میں فیصلہ کروں تو وہ تو در حقیقت آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔وہ اس کو أطرافه : ٢٤٥٨ ، ٢٦٨٠ ، ٦٩٦٧، ٧١٦٩، ٧١٨٥۔لے لے یا اس کو چھوڑ دے ۷۱۸۲: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۷۱۸۲: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے