صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 429
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۹ ۹۳ - كتاب الأحكام حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجٍ سے ، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ زوجہ سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: عتبہ بن ابی وقاص قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ أَنَّ نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو نصیحت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے اس کو لے کر اپنے ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ پاس رکھنا۔ جس سال مکہ فتح ہوا تو سعد نے اس کو فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ لے لیا اور کہا کہ میرے بھائی کا بیٹا ہے اس نے فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ اس کے متعلق مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ اُٹھ کر اُن کے پاس آئے اور کہا: میرا بھائی ہے اور أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو اس کے بستر پر فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى جنا گیا۔ آپس میں کھینچ کھینچی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد نے کہا: یا رسول اللَّهِ ابْنُ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ الله ! یہ میرے بھا بھائی کا بیٹا ہے اس نے اس ، کے وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ متعلق مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا: أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو اس کے بستر پر جنا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ يَا نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ تمہارا ہے۔ پھر رسول عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب بستر کا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ہی ہوتا ہے اور بد کار کو پتھر پڑتے ہیں۔ پھر آپ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے فرمایا: اس سے زَمْعَةَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ پردہ کرنا اس لئے کیونکہ آپ نے عقبہ سے اس کی بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ الله تَعَالَى۔ شکل ملتی جلتی دیکھی تو اُس نے حضرت سودہ کو کبھی نہیں دیکھا اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جاملا۔ أطرافه : ۲۰۰۳، ۲۲۱۸ ، ۲۴۲۱ ، ۲۵۳۳، ۲۷۴۵، ۴۳۰۳، ٦٧٤۹، ٦٧٦٥، ٦٨١٧-