صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 424 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 424

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۴ ۹۳ - كتاب الأحكام لَهُمْ بِخِلَافَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا کے پاس جاتے ہیں اور اُن سے اُن باتوں کے مِنْ عِنْدِهِمْ قَالَ كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا۔خلاف کہتے ہیں جو ہم اس وقت کہا کرتے ہیں کہ جب ان کے پاس سے اٹھ کر باہر آتے ہیں۔حضرت عبد اللہ نے کہا: ہم اس کو نفاق سمجھا کرتے تھے۔۷۱۷۹: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۷۱۷9 قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ یزید نے عراک (بن مالک) سے، عراک نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے لوگوں میں سے سب سے بُرا، دورُخہ ہے جو هَؤُلَاءِ بِوَجْهِ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهِ۔أطرافه : ٣٤٩٤، ٦٠٥٨ - ان کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا منہ لے کر آتا ہے۔تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ وَإِذَا خَرَجَ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ : بادشاہ کی تعریف کرناجو مکروہ ہے اور جب وہ چلا جائے تو اس کے برخلاف کہنا۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بد ترین آدمی تم اُس کو پاؤ گے جو ذو الو جہین ہو، جس کے دو چہرے ہوں۔سوسائٹی میں یہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنالیتا ہے اور وہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنا لیتا ہے۔کسی ایک جگہ جاتا ہے تو اُس کے دشمنوں کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے۔دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اس سے پہلے کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے، تو ایسے شخص ہیں جو سوسائٹی میں نفرتیں ہوتے اور بہت سی برائیوں کو پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔تو وہ شخص بڑا جھوٹا، منافق اور چغل خور ہے۔پس یہ تین بیماریاں اس عادت سے نکلتی ہیں۔" (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۴، اگست ۱۹۹۲، جلد ۱ صفحه ۵۶۹) (مسلم، کتاب البر والصلة، باب ذم ذى الوجهين و تحريم فعله، حدیث نمبر (۴۷۱۴)