صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 423 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 423

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۳ ۹۳ - كتاب الأحكام رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہوازن کے قیدیوں کے آزاد کرنے کے متعلق حِينَ أَذِنَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ فِي عِتْقِ اجازت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سَبْيِ هَوَازِنَ فَقَالَ إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کس نے اجازت أَذِنَ فِيْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا دی کس نے اجازت نہیں دی اس لئے تم واپس حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، چلے جاؤ تا کہ تمہارے نما ئندے ہمارے سامنے فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ تمہارا مشورہ پیش کریں۔لوگ واپس چلے گئے اور فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ اُن کے نمائندوں نے اُن سے بات چیت کی اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ وہ رسول اللہ کے پاس لوٹ کر آئے اور اُنہوں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے منظور کیا طَيِّبُوا وَأَذِنُوا۔اور اُنہوں نے اجازت دی ہے۔أطراف الحديث ۷۱۷٦ ۲۳۰۷، ۲۵۳۹، ۲۵۸۴ ،۲۶۰۷، ۳۱۳۱، ٤۳۱۸۔أطراف الحديث ،۷۱۷۷ ۲۳۰۸ ۲٥٤۰ ، ۲۵۸۳، ۲۶۰۸، ۳۱۳۲، ٤٣١٩۔تشریح : الْعُرَفَاء لِلنَّائیں: لوگوں کے نمائندے مقرر کرنا۔علامہ ابن حجر لکھے ہیں: غرف عریف کی جمع ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو انسانوں کے ایک گروہ کا نگران ہو، یعنی اس کے سپردان کے امور سیاست کیے گئے ہوں جن کا وہ محافظ ہو۔اور یہ عریف نام اسے اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ان کے معاملات کی معرفت رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت وہ اپنے سے اوپر کے افسر کو ان کے متعلق معلومات دے سکتا ہے۔(فتح الباری، جزء۱۳ صفحه ۲۰۹) باب ۲۷: مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ وَإِذَا خَرَجَ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ بادشاہ کی تعریف کرنا جو مکروہ ہے اور جب وہ چلا جائے تو اس کے بر خلاف کہنا ۷۱۷۸: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۱۷۸ ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم بن عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ کچھ عُمَرَ إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا فَنَقُولُ لوگوں نے حضرت ابن عمر سے کہا: ہم اپنے بادشاہ