صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 417
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۱۷ ۹۳ - كتاب الأحكام علیوم نہیں کیا اور انکار کیا۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ رسول کریم صلی علی ایم کا کوئی قول تھا آیت نہیں تھی۔ ورنہ کیا یہ ممکن تھا کہ رسول کریم صلی الم وحی قرآنی کو چھپاتے۔ قرآن تو کہتا ہے کہ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ (مائده ع ۱۰) یعنی اے ہمارے رسول ! تیرے رب کی طرف سے جو کلام تجھ پر اُتارا گیا ہے تو اسے لوگوں تک پہنچا۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو گویا تو نے اس کا پیغام بالکل نہ پہنچایا۔ مگر اس کے باوجود آپ خود بھی یہ حکم لوگوں تک نہیں پہنچاتے بلکہ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر بھی اُن کی بات کو ناپسند کرتے ہیں اور یہ حکم لکھ کر نہیں دیتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسول کریم صلی ایم کا ایک قول تھا۔ حضرت عمر کا اس کو آیت سمجھنا مگر رسول کریم صلی الایم کا اس کو لکھ کر دینے سے انکار کرنا بلکہ اس کو نا پسند کرنا بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اہم اس کو آیت نہیں قرار دیتے تھے بلکہ محض اپنا خیال سمجھتے تھے۔ اور عام باتوں کے لکھنے سے چونکہ آپ منع فرماتے تھے اس لئے آپ نے کچھ لکھ کر نہیں دیا۔“ (تفسیر کبیر جلد ۶ صفحہ ۲۵۲) باب ۲۲ أَمْرُ الْوَالِي إِذَا وَجَّهَ أَمِيرَيْنِ إِلَى مَوْضِعٍ أَنْ يَتَطَاوَعَا وَلَا يَتَعَاصَيَا حاکم جب کسی مقام پر دو امیر بھیجے تو اس کا یہ حکم دینا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے اتفاق سے رہیں اور آپس میں اختلاف نہ کریں ۷۱۷۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۷۲ ۷۱ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عقدی حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، شعبہ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا، میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی وَسَلَّمَ أَبِي وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ اور حضرت معاذ فَقَالَ يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: تم دونوں تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا ۔ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَی آسانی کرنا اور سختی نہ کرنا اور خوش رکھنا اور نفرت نہ إِنَّهُ يُصْنَعُ فِي أَرْضِنَا الْبِتْعُ فَقَالَ كُلُّ دلانا اور باہمی اتفاق سے کام کرنا۔ حضرت ابو موسی الرحيم