صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 410 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 410

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۱۰ ۹۳ - كتاب الأحكام کیوں ابھی تک لوگوں کو اتنی موٹی بات بھی معلوم نہیں ہوئی کہ انہیں مساجد کا احترام کرنا چاہئے۔اور لغو باتوں کی بجائے ذکر الہی میں اپنا وقت گزارنا چاہئے یا اگر باتیں ہی کرنی ہوں تو دین کی باتیں کریں ہم اپنی مساجد میں جب بیٹھتے ہیں تو ہمیشہ دین کی باتیں کرتے ہیں یا ایسی دنیوی باتیں بھی کر لیتے ہیں جو دین سے تعلق رکھتی ہیں مگر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مساجد میں بیٹھ کر سوداسلف کی باتیں شروع کر دی جائیں۔یا گھر کے جھگڑے بیان ہونے لگ جائیں یا ایک دوسرے کی غیبت شروع ہو جائے۔یہ ساری باتیں سخت معیوب ہیں اور انسان کو خدا تعالیٰ کی نظر میں گنہگار بنا دیتی ہیں۔( تفسير كبير، سورة الفجر وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخر بالواد، جلد ۸ صفحه ۵۴۳،۵۴۲) فرمایا: ”مساجد ذکر الہی کے لئے ہیں لیکن ذکر الہی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملی، سیاسی، علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں۔لیکن وہ تمام باتیں جو لڑائی، دنگہ،فساد یا قانون شکنی سے تعلق رکھتی ہوں خواہ ان کا نام ملتی رکھ لو یا سیاسی۔قومی رکھ لو یادینی ان کا مساجد میں کرنا نا جائز ہے۔اسی طرح مساجد میں ذاتی امور کے متعلق باتیں کرنا بھی منع ہے کیونکہ اسلام مسجد کو بیت اللہ قرار دیتا اور اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص قرار دیتا ہے۔( تفسير كبير، سورة الحج وَإِذْ بوأنا لا بُراهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ، جلد ۲ صفحه ٢٩) باب ۲۰: مَوْعِظَةُ الْإِمَامِ لِلْحُصُومِ امام کا جھگڑنے والوں کو نصیحت کرنا ٧١٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۱۶۹: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اُنہوں نے مالک سے ، مالک نے ہشام سے، ہشام زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى زينب بنت ابی سلمہ سے۔انہوں نے حضرت اُم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو صرف ایک بشر بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ ہوں اور تم میرے پاس جھگڑتے ہوئے آتے ہو