صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 409
۴۰۹ صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام جائے۔اور نہ ہی اسے بازار بنایا جائے۔حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: مسجد میں مشاعرہ کے رنگ میں اشعار نہ پڑھے جائیں ( یعنی ایسے اشعار جو لغویات کے زمرہ میں آتے ہیں) اس میں بیٹھ کر خرید و فروخت نہ کی جائے۔یا جمعہ کے دن نماز سے پہلے لوگ حلقے بنا کر بیٹھے باتیں نہ کریں کے ان احادیث میں آنحضرت علی الم نے ہمیں مساجد کے آداب و احترام کی طرف توجہ دلائی ہے اور مساجد کو ہر قسم کی لغویات سے پاک رکھنے اور دنیا داری کے جملہ امور سے منزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے کیونکہ مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں۔آنحضرت علی الم فرماتے ہیں کہ "جو شخص پیاز، لہسن یا کوئی بدبودار چیز کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے کیونکہ فرشتوں کو بھی اُس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: أَنْ طَهِرا بیتی کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک کرو اور اسے ہر قسم کے عیبوں اور خرابیوں سے بچاؤ۔اس سے مراد ظاہری صفائی بھی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ مساجد کو صاف رکھو اور اس میں عُود وغیرہ جلاتے رہو۔اور اس سے باطنی صفائی بھی مراد ہو سکتی ہے۔یعنی مسجد کی حرمت کا خیال رکھو اور اس میں بیٹھنے کے بعد لغویات سے کنارہ کش رہو۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة البقرة وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَ آمنا، جلد ۲ صفحه ۱۷۰) حضرت خلیفہ المسیح الثانی ٹمزید فرماتے ہیں۔” مساجد خدا کا گھر کہلاتی ہیں اور مساجد وہ مقام ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں مگر لوگ جب مساجد میں آتے ہیں تو وہ ہزار قسم کی بکواس کرتے ہیں، آپس میں دنیوی معاملات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ایک دوسرے کو جوش میں گالیاں بھی دے دیتے ہیں۔غیبت بھی کر لیتے ہیں اور انہیں ذرا بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ خدا کے گھر میں بیٹھ کر کس قسم کی شرمناک حرکات کر رہے ہیں۔اُنہیں تو چاہئے تھا کہ وہ جب تک مساجد میں رہتے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کی زبانیں تر رہتیں مگر وہ بجائے ذکر الہی کرنے کے دنیوی امور میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مر تکب بن جاتے ہیں۔مساجد میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں اور اس قدر شور بعض لوگوں نے مچایا ہوا ہوتا ہے کہ تعجب آتا ہے (سنن ابن ماجه، کتاب المساجد، باب ما يكره في المساجد) (سنن الترمذی، ابواب الصلاة، باب ما جاء في كراهية البيع والشراء) (صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب نهى من أكل ثوما أو بصلا)