صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 411 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 411

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۱۱ ۹۳ - كتاب الأحكام بَعْضٍ فَأَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ اور شاید تم میں سے کوئی کسی سے اپنی دلیل کے فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا بیان کرنے میں زیادہ بلیغ ہو اور میں اسی طرح يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ فیصلہ کر دوں جو میں سنوں تو جس شخص کے لئے میں نے اس کے بھائی کے حق سے کچھ دلوانے کا النَّارِ۔ فیصلہ کیا تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ میں اس کو صرف آگ کا ٹکڑا ہی کاٹ کر دے رہا ہوتا ہوں۔ أطرافه : ٢٤٥٨ ، ٢٦٨٠ ، ٦٩٦٧، ١٨١، ٧١٨٥۔ تشریح : مَوْعِظَةُ الْإِمَامِ لِلْخُصُومِ : امام کا جھگڑنے والوں : والوں کو نصیحت کرنا۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ایسا شخص جو اپنی چرب زبانی اور چالاکی سے کسی کا حق لیتا ہے تو گویا وہ آگ مول لیتا ہے یعنی فساد کی بنیاد ڈالتا ہے۔ جس کے بد نتائج آگ کی طرح تباہ کن ہوں گے۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے حق میں فیصلہ دے دینا بھی اُس کے لئے جو از کی صورت پیدا نہیں کر سکتا۔ ترجمه و شرح صحیح بخاری، کتاب المظالم، جلد ۴ صفحه ۴۷۱) بَاب ۲۱ : الشَّهَادَةُ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وِلَايَةِ الْقَضَاءِ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ وہ شہادت جو حاکم کے پاس کسی فریق کے حق میں قضاء کا کام سر انجام دینے کے اثنامیں یا اس سے پہلے ہو وَقَالَ شُرَيْحُ الْقَاضِي وَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ اور شریح قاضی نے کہا اور اُن سے کسی آدمی نے الشَّهَادَةَ فَقَالَ الْتِ الْأَمِيرَ حَتَّى گواہی دینے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ تم أَشْهَدَ لَكَ۔ وَقَالَ عِكْرِمَةُ قَالَ عُمَرُ امیر کے پاس جاؤ تا کہ میں تمہارے لئے گواہی لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ لَوْ رَأَيْتَ دوں اور عکرمہ کہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت رَجُلًا عَلَى حَدٍ زِنَا أَوْ سَرِقَةٍ وَأَنْتَ عبد الرحمن بن عوف سے پوچھا: اگر تم کسی شخص کو