صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 385
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۵ ۹۳ - كتاب الأحكام بدل دے گا یا اُسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو، خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کر۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم صفحه ۲۴۶ زیر آیت سورۃ النساء: ۶۰) باب ۱۰: الْقَضَاءُ وَالْفُتْيَا فِي الطَّرِيقِ راستے میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا وَقَضَى يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ فِي الطَّرِيقِ اور يحي بن یعمر نے راستے میں فیصلہ کیا اور شیعی نے وَقَضَى الشَّعْبِيُّ عَلَى بَابِ دَارِهِ۔بھی اپنے گھر کے دروازے پر فیصلہ کیا۔٧١٥٣: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۷۱۵۳: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بن أَبِي الْجَعْدِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكِ منصور سے، منصور نے سالم بن ابی الجعد سے روایت کی کہ ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا۔اُنہوں نے کہا: میں اور نبی صلی اللہ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ رَضِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَانِ مِنَ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ اسی اثنا میں الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ ہمیں مسجد کے دروازے پر ایک شخص ملا اور وہ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى کہنے لگا: یا رسول اللہ ! وہ گھڑی کب ہو گی؟ نبی صلی السَّاعَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس کے لئے کیا وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ سامان تیار کر رکھا ہے؟ یہ سنتے ہی جیسے وہ شخص دب اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَا گیا۔پھر کہنے لگا: یارسول اللہ ! میں نے اس گھڑی أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ کیلئے نہ بہت روزے اور نہ بہت نماز اور نہ صدقہ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنْ أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ تیار کیا ہے مگر اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ " گھیر ہے (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۱۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔